ڈسپلن کی اہمیت
الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۳۷
حضرت یوسف اگر اس معاملہ کو (شرک) کے زاویے سے دیکھتے تو وہ بادشاہ کے ایڈمنسٹریشن میں شرکت نہ کرتے۔ مگر آپ نے اس کو اپنے دعوتی مشن کی حیثیت سے دیکھا اور قبول کر لیا۔ اسی طرح پیغمبر اسلام ﷺ اپنی نبوت کے ابتدائی زمانہ میں 13 سال تک مکہ میں تھے۔ وہاں آپ کعبہ میں جاتے اور نماز ادا فرماتے اور لوگوں کو دعوت پہنچاتے، حالانکہ اس زمانے میں کعبہ کی عمارت میں کھلے طور پر 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ اگر اس واقعہ کو منفی زاویے سے دیکھا جائے تو وہ شرک کا اینڈورسمنٹ (endorsement) نظر آئے گا۔ لیکن رسول اللہ نے اس کو دعوت کے زاویے سے دیکھا۔ آپ نے یہ فارمولا اختیار کیا کہ ــــ بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کرو اور وہاں موجود لوگوں میں اپنا پیغام پہنچاؤ۔
ہم نے اپنے دعوتی مشنن میں اسی پیغمبرانہ طریقہ کو اختیار کیا ہے۔ ہم لوگوں کو دشمن اور دوست کے اعتبار سے نہیں دیکھتے۔ ہم ہر انسان کو صرف انسان کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ ہر عورت اور ہر مرد کو ہم حق کا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہم ہر اجتماعی موقع پر جاتے ہیں۔ ہمارے پاس قرآن کا ترجمہ اور دوسری اسلامی کتابیں ہوتی ہیں ان کو ہم ایک ایک شخص تک پہنچاتے ہیں۔ مذکورہ اجتماع میں پورے انڈیا کے تقریباً تمام ٹاپ کے کٹر ہندو لیڈر موجود تھے۔ ہمارے ساتھیوں نے بڑے پیمانے پر قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر ان لوگوں کو مطالعے کے لیے دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ الناس أعداء ما جهلو کی مثال ہے۔ جو لوگ دعوت کے فرض سے غافل ہیں، جو یہ نہیں سمجھتے کہ مسلمان کا دوسرے انسانوں سے تعلق داعی اور مدعو کا تعلق ہے، وہ اس معاملے میں غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ انسانوں کو دوست اور دشمن کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ کسی کو اپنا اور کسی کو غیر سمجھتے ہیں۔ وہ کسی سے محبت کرتے ہیں اور کسی سے نفرت۔ ایسے لوگ ایک داعی کی پوزیشن کو سمجھ نہیں پاتے۔ آپ کو چاہئے کہ آپ ہمارے بارے میں کسی انگریزی یا ہندی اخبار میں ایک خبر پڑھ کر رائے نہ بنائیں بلکہ خود ہماری تحریروں کو پڑھ کر ہمارے بارے میں رائے بنائیں ۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ کو بھی مذکورہ قسم کی غلط فہمی نہیں ہوگی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues