ڈسپلن کی اہمیت
الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۳۸
سوال
قرآن کی تین آیتوں کے بارے میں استفسار مطلوب ہے۔ براہِ کرم، جواب دے کر ممنون فرمائیں: 1- ’’اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں اقتدار دے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو اقتدار دیا تھا۔ اور ان کے لیے ان کے دین کو جما دے گا، جس کو ان کے لیے پسند کیا ہے۔ اور ان کی خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد انکار کرے تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں‘‘ (النور: 55)۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت فی الارض کا وعدہ ان لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی انعام ہے جو ایمان اور عملِ صالح کے حقیقی تقاضوں کو پورا کریں۔ لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے نہ صرف بڑے حصّے پر بلکہ ان ممالک میں بھی جہاں مسلمان آباد ہیں اور ان کی حکمرانی بھی ہے، اِس پر ان عالمی طاقتوں کا قبضہ اور غلبہ ہے جو حقیقتاً ایمان اور عملِ صالح سے محروم ہیں، بلکہ بعض ممالک ایسے بھی ہیں جیسے روس، چین، جاپان، وغیرہ نہ صرف ایمان اور عملِ صالح سے تہی دامن ہیں، بلکہ وہ خدا کے وجود کے بھی قائل نہیں ہیں۔ لیکن اس کے برعکس خود کو صاحبِ ایمان بتانے والے لوگ موجودہ دور میں ان عالمی طاقتوں کے مقابلے میں انتہائی کمزور ہیں اور وہ زندگی کے ہر شعبہ میں ان کے محتاج اور دست نگر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر خلافت فی الارض محض خدائی انعام ہے اور یہ انھیں لوگوں کو ملنے والا ہے جو ایمان اور عملِ صالح کی روش کو اختیار کریں تو پھر جو قومیں سرے سے ایمان اور عملِ صالح کے تصور سے عاری ہیں، ان کو استحکام کس بنیاد پر ملا ہوا ہے۔
2- قرآن میں ایک آیت آئی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: ’’اللہ ہی وفات دیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آئی ان کو سونے کے وقت، پھر وہ ان کو روک لیتا ہے جن کی موت کا فیصلہ کر چکا ہے اور دوسروں کو ایک وقت مقرر تک کے لئے رہا کر دیتا ہے، بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور کرتے ہیں‘‘ (الزمر: 42)۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues