Al-Risala · June 2010 · page 39

ڈسپلن کی اہمیت

الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۳۹

اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص کی موت اس کی نیند کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالی کسی شخص کے لئے موت کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ رات کو جب سوئے گا تو اگلے دن وہ نہیں اٹھے گا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ نیند کی حالت میں کسی کی موت کا واقعہ ہونا بہت ہی شاذ و نادر ہے۔ عام طور پر لوگوں کی موت جاگتے ہوئے آتی ہے۔ اس کے علاوہ حادثات وغیرہ بھی زیادہ تر دن میں ہی ہوتے ہیں۔ آیت کا صحیح مفہوم جاننے کے لئے میں آپ کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

3- قرآن میں ایک جگہ ارشاد ہوا ہے: ألم تروا كيف خلق الله سبع سموات طباقا (نوح: 15) یعنی کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے ۔ سوال یہ ہے کہ جب سات آسمان تہ بہ تہ نظر نہیں آتے تو پھر اس کو مخاطب کس طرح تسلیم کرے گا۔ کیوں کہ سات آسمانوں کو تہ بہ تہ دیکھنا صاحب ایمان کے لیے ممکن ہے اور نہ منکرین حق کے لیے ۔ تاہم اگر اس رویت سے رویت عینی مراد لی جائے تو پھر اس کو عمومی طور پر سمجھنا مشکل ہے۔ لیکن اگر اس سے رویت قلبی مراد لی جائے اور اسلوب بیان کو محاورات عرب پر محمول کیا جائے تو اس آیت کو دلیل بنا کر پیش کرنے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ تقریبا دو سو سال سے فلکیات سے متعلق ہونے والی تحقیقات کے باوجود بھی ہم اس بارے میں سائنسی بنیادوں پر حتمی معلومات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ تاہم اگرچہ پچھلی چند دہائیوں میں فلکی طبیعات کے سلسلے میں چند انتہائی دلچسپ دریافتیں ضرور ہوئی ہیں اور ان سے معجزۂ قرآن کی حقانیت ثابت ہوئی ہے۔ مگر جس زمانے میں یہ آیت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی، اس زمانے میں سائنسی تحقیقات کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ اس صورت حال میں قرآن کے اولین مخاطب کے لیے سات آسمانوں کا تہ بہ ہونا کیسے سمجھ میں آسکتا تھا اور وہ ان کو دلیل کے طور پر کیسے دیکھ یا جان سکتے تھے۔ جب کہ موجودہ دور میں بھی کسی آدمی کے لئے راست انداز میں سات آسمانوں کا مشاہدہ اور نظارہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ میں قرآن کی اس آیت کا مفہوم آپ سے جاننا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ اپنے جواب سے ضرور نوازیں گے (غلام نبی کشانی، سری نگر، کشمیر)

‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues

Printed page