ڈسپلن کی اہمیت
الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۴۰
جواب
1- خلافتِ ارضی کسی گروہ کا حق (right) نہیں ہے، نہ مسلم گروہ کا اور نہ غیر مسلم گروہ کا۔ خلافتِ ارضی کا فیصلہ اللہ کی ایک سنت کے مطابق ہوتا ہے۔ یہ سنت اصلا تعمیر دنیا کے اصول پر قائم ہے۔ جس گروہ کے اندر مقابلہ تعمیر دنیا کی زیادہ صلاحیت ہو، اس کو زمین کی خلافت عطا کی جاتی ہے۔ کسی مفسد گروہ کے لیے کبھی خلافتِ ارضی کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
اگر دنیا میں دو گروہ ہوں اور دونوں تعمیر دنیا کی تقریباً یکساں صلاحیت رکھتے ہوں، تو اُس گروہ کو ترجیح دی جائے گی جو تعمیر دنیا کے ساتھ ایمان کی صفت اپنے اندر رکھتا ہو، بصورتِ دیگر خلافتِ ارضی کا فیصلہ غیر مومنین کے لیے کر دیا جائے گا۔ موجودہ زمانے میں جن گروہوں کو خلافتِ ارضی حاصل ہے، ان کے بارے میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ وہ مقابلہ تعمیر دنیا کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ جہاں تک موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا معاملہ ہے، وہ نہ صرف یہ کہ تعمیر دنیا کی صلاحیت سے محروم ہیں، بلکہ وہ اپنے ایمانی زوال کی آخری حد پر پہنچ چکے ہیں۔ ان کے بارے میں اقبال کا یہ شعر پوری طرح صادق آتا ہے:
تیرے محیط میں کہیں ، گو ہر زندگی نہیں ڈھونڈ چکا میں موج موج، دیکھ چکا صدف صدف واضح ہو کہ عمل صالح سے مراد صرف عبادتی عمل نہیں ہے۔ اس میں وہ چیز بھی شامل ہے جس کے لیے ہم نے تعمیر دنیا کا لفظ استعمال کیا ہے۔ شخصی نجات کے لیے ایمان اور اخلاص کافی ہے، لیکن خلافتِ ارضی کا فیصلہ صرف ایمان اور اخلاص کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کا فیصلہ اُس عملِ صالح کی بنیاد پر کیا جاتا ہے جس میں دنیا کی مثبت تعمیر لازمی طور پر شامل ہو۔ 2- سورہ الزمر میں موت کے وقت وفات کی بات معروف معنی میں موت کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ وہ شبہہ موت کے معنی میں ہے۔ اس آیت کا مطلب دراصل یہ ہے کہ جس طرح نیند کی حالت میں روزانہ تم کو موت کا جزئی تجربہ ہوتا ہے، اُسی طرح آخر کار وہ دن آئے گا، جب کہ تم کو موت کا کلی تجربہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues