ڈسپلن کی اہمیت
الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۴۱
ہو گا۔ اس آیت کا مقصد نیند کی حقیقت بتانا نہیں ہے، بلکہ ایک مثال کے ذریعے موت کو قابل فہم بنانا ہے۔ یہی اسلوب حدیث میں بھی موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نبوت ملی تو مکہ میں آپ نے اپنے پہلے خطاب میں فرمایا تھا: واللہ لتموتن كما تنامون، ولتبعثن كما تستيقظون (أنساب الأشراف للبلاذری، رقم الحديث: 50) یعنی خدا کی قسم، تمھیں مرنا ہے جس طرح تم سوتے ہو، اور پھر تم کو دوبارہ اٹھنا ہے جس طرح تم جاگتے ہو۔ اصل یہ ہے کہ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ بطور تمثیل ہے، نہ کہ بطور تبیین۔ اس میں نیند کو موت سے تشبیہ دی گئی ہے اور بعث بعد الموت کو بیداری کی مثال کے ذریعے قابل فہم بنایا گیا ہے۔ گویا کہ نیند ایک جزئی موت ہے، اور جزئی موت کی مثال سے کلی موت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ 3- سورہ نوح کی مذکورہ آیت کے بارے میں عرض ہے کہ اس کے دو پہلو ہیں۔ اُس کا ایک پہلو یہ ہے کہ سماوات کی دنیا سات طبقوں میں تقسیم ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ بے حد و وسیع ہے، یہاں تک کہ کوئی شخص اس کی وسعت کا کامل اندازہ نہیں کر سکتا۔
جہاں تک تعداد کی زبان میں سماوات کے سات ہونے کا معاملہ ہے، وہ ابھی تک غیر معلوم ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں، کیوں کہ ساری ترقی کے باوجود انسان، کائنات کے بارے میں بہت کم جانتا ہے۔ مثال کے طور پر جدید تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ وسیع کائنات کا 95 فی صد سے زیادہ حصہ ناقابل مشاہدہ ہے۔ اس ناقابل مشاہدہ حصہ کائنات کو ڈارک میٹر (dark matter) یا بلیک ہول (black hole) کہا جاتا ہے۔
اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کائنات بے حد و وسیع ہے۔ اس وسعت کا علم آج بھی انسان کو حاصل نہیں۔ مذکورہ آیت میں جو چیز بناء استدلال ہے، وہ سات کی گنتی نہیں ہے، بلکہ وہ کائنات کی وسعت ہے۔ یہ لامحدود وسعت ثابت کرتی ہے کہ اس کا خالق ایک انتہائی عظیم ہستی ہے۔ وہ بے پناہ قدرت اور طاقت کا حامل ہے۔ گنتی کے پہلو کو دوسری بہت سی غیر معلوم چیزوں کی طرح ایک غیر معلوم چیز مان لیا جائے تو خالق کی عظمت و قدرت کے ثبوت کے لیے سماوات کا ظاہر ا بالکل کافی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues