Al-Risala · June 2010 · page 42

ڈسپلن کی اہمیت

الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۴۲

سوال

آپ نے ” دار الاسلام، دار الکفر اور دار الحرْب “ کے عنوان سے ماہ نامہ الرسالہ میں بار بار لکھا ہے۔ الرسالہ فروری 2010 میں ” اسلام کے نام پر غیر اسلام “ کے عنوان سے جو مضمون ہے، اس میں آپ نے ان اصطلاحات پر کافی اچھی روشنی ڈالی ہے۔ الرسالہ دسمبر 2003 اور اپریل 2005 میں بھی اس موضوع پر آپ نے بحث کی ہے۔ ان مضامین نے میرے ذہن پر نہایت مثبت اثر ڈالا ہے۔ آپ کے مطابق، یہ اصطلاحیں سیاسی بدعت اور اجتہادی خطا کا درجہ رکھتی ہیں۔ مگر آپ کا یہ جملہ ” اس لئے صحیح اسلامی نظریہ کے مطابق، صرف دو اصطلاحیں درست ہیں— دار الاسلام اور دار الدعوة “ (امن عالم، صفحہ 156) کنفیوژن پیدا کرتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ دار الاسلام کی اصطلاح اگر ایک سیاسی بدعت ہے تو پھر آپ کا یہ لکھنا کہ دار الاسلام کی اصطلاح درست ہے، کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ (رستم علی، پٹنہ، بہار) جواب دار الاسلام اور دار الکفر کی اصطلاحات کو بطور فقہی اصطلاحات مان لیا گیا ہے۔ مجھے اس اصطلاح سازی سے اختلاف ہے۔ کیوں کہ اس قسم کی اصطلاح بعد کو عباسی دور میں اختیار کی گئی۔ اس سے پہلے صحابہ اور تابعین کے زمانے میں اس قسم کی قانونی اصطلاحات کا کوئی وجود نہ تھا۔ جہاں تک دار الانسآن یا دار الدعوة کا تعلق ہے، اُس کو میں نے متبادل فقہی اصطلاح کے طور پر تحریر نہیں کیا ہے۔ میرا مطلب صرف یہ ہے کہ اگر اس معاملے میں اصطلاح بنانا ہو تو قرآن اور حدیث کی روشنی میں دار الانسان اور دار الدعوة جیسی اصطلاح بنانا درست ہو سکتا ہے۔ میں نے اس معاملے میں جو کچھ لکھا ہے، اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ موجودہ ممالک حکماً دار الانسان اور دار الدعوة ہیں۔ میں نے یہ الفاظ اس معاملے میں مسلمانوں کی ذمہ داری کو بتانے کے لیے استعمال کئے ہیں، نہ کہ فقہی معنوں میں اصطلاح سازی کے لیے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues

Printed page