Al-Risala · July 2010 · page 5

قرآن میں تدبر کی اہمیت

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۵

قرآن میں تدبر کی اہمیت

اکثر واعظین، قرآن کی تلاوت کے ثواب کو جوش وخروش کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ مثلاً وہ یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ: من قرأ حرفاً من كتاب الله فله به حسنة والحسنة بعشر أمثالها (الترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فيمن قرأ حرفاً من القرآن) یعنی جس نے خدا کی کتاب کا ایک حرف پڑھاتو اس کے لیے اس پر ایک نیکی ہے، اور ہر نیکی دس گنا ثواب کے برابر ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن کے ایک حرف کو صرف زبان سے ادا کر دینے کی بنا پر کسی آدمی کو ایسا ثواب ملے گا۔ بلاغت کے معلوم اصول کے مطابق، اس میں ایک کیفاتی (qualitative) واقعے کو کمیاتی (quantitative) اصطلاح میں بیان کیا گیا ہے۔ جیسے یہ کہنا کہ فلاں شخص اخلاص کا پہاڑ ہے۔ یہ حقیقت اس وقت واضح ہو جاتی ہے، جب کہ اس حدیث کو دوسری روایت کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے۔ قرآن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ: القرآن يفسر بعضه بعضا (قرآن کا ایک حصہ اس کے دوسرے حصے کی تفسیر کرتا ہے)۔ یہی اصول حدیث کے بارے میں بھی درست ہے، یعنی الحديث يفسر بعضه بعضا (ایک حدیث دوسری حدیث کی شرح کرتی ہے)۔ حدیث کی روایت کو سمجھنے کے لیے اس اصول کو سامنے رکھنا بہت ضروری ہے۔ حدیث میں ایک طرف مذکورہ روایت آئی ہے، اور دوسری طرف حدیث میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا خير في قرأة لا تدبر فيها (الدارمی، مقدمة) یعنی قرآن کی ایسی قرأت میں کوئی خیر نہیں جس میں تدبر نہ ہو۔ قرآن کو جب بھی پڑھا جائے گا، اس کے الفاظ کی مدد سے اس کو پڑھا جائے گا۔ لیکن الفاظ بذاتِ خود مطلوب نہیں ہوتے۔ ہر لفظ کا ایک مفہوم ہوتا ہے اور لفظ کو اس لیے ادا کیا جاتا ہے، تا کہ قاری اس کے مفہوم تک پہنچ سکے۔ الفاظ، معانی تک پہنچنے کا دروازہ ہیں۔ اس بنا پر الفاظ کی بے حد اہمیت ہے، لیکن الفاظ کی اہمیت وسیلہ کے اعتبار سے ہے، نہ کہ مقصود کے اعتبار سے۔ مثلاً ایک قاری جب حمد کا لفظ بولتا ہے تو اس کا مقصد صرف ح م نہیں ہوتا، بلکہ اس سے مراد وہ مفہوم ہوتا ہے جو حمد کے لفظ میں چھپا ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues

Printed page