Al-Risala · July 2010 · page 6

ذکر اور دعا

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۶

ذکر اور دعا

حضرت عائشہ کی ایک روایت ہے جو حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر الله على كل أحيانه (صحيح البخاري، كتاب الأذان؛ صحيح مسلم، أبو داؤد، ابن ماجه: كتاب الطهارة؛

الترمذی، کتاب الدعوات) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر موقع پر اللہ کا ذکر کرتے تھے۔ اس روایت کو اکثر محدثین نے ابواب طہارت کے تحت نقل کیا ہے۔ مگر اس روایت کا مسائل عبادت سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح کچھ لوگوں نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ بار بار آدمی کی زبان سے بسم اللہ، الحمد للہ، ان شاء اللہ، ماشاء اللہ اور اسی طرح کے دوسرے مقرر کلمات نکلتے رہیں، مگر یہ شرح بھی اس حدیث کی حقیقی معنویت کو بیان نہیں کرتی۔

اصل یہ ہے کہ ذکر اور دعا صاحب معرفت انسان کے تخلیقی کلمات ہیں۔ انسان کی زندگی میں بار بار مختلف قسم کے مواقع یا احیان (occasions) پیش آتے ہیں۔ اگر آدمی کے اندر سوچنے کی اور توَسّم کرنے کی صلاحیت ہو تو وہ پالے گا کہ ان مواقع پر خدا کی یاد کا کوئی نہ کوئی پہلو موجود ہے۔ آدمی ان مواقع کو پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بنا کر اُن کو اعلیٰ درجے کی کیفیتِ ذکر اور کیفیتِ دعامیں تبدیل کر سکتا ہے۔ حضرت عائشہ نے پیغمبر اسلام کی زندگی میں یہی بات پائی تھی۔ انھوں نے دیکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر موقع کو پوائنٹ آف ریفرنس بنا کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں یا اللہ سے دعا فرماتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ذکر اور دعا کچھ یاد کئے ہوئے الفاظ کو دہرانے کا نام نہیں، ذکر اور دعا یہ ہے کہ مختلف مواقع اور مختلف حالات آدمی کے لیے اللہ کو یاد دلانے والے (reminder) بن جائیں، ہر واقعے اور ہر تجربے کو وہ اللہ سے ریلیٹ (relate) کر کے دیکھ سکے، ہر تجربے میں اس کو خدا کی خدائی کا کوئی پہلو نظر آجائے۔ اس طرح کے شعوری احساس کے تحت جو الفاظ آدمی کی زبان پر جاری ہو جائیں، اُنھیں کا نام ذکر اور دعا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues

Printed page