سب سے بڑی خوشی
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۷
سب سے بڑی خوشی
ایک روایت صحیحین میں الفاظ میں آئی ہے: عن أبي سعید قال: قال رسول الله ﷺ ان الله تعالی یقول لأهل الجنّة یا أهل الجنّة، فیقولون: لبيّک ربّنا وسعديك، والخير كلّه في يديك۔ فيقول: هل رضيتم۔ فيقولون: وما لنا لا نرضى يا ربّ، وقد أعطيتنا ما لم تعط أحداً من خلقك۔ فيقول: ألا أعطيكم أفضل من ذلك۔ فيقولون: يا ربّ، وأيّ شيئ أفضل من ذلك۔ فيقول: أحلّ عليكم رضواني فلا أسخط عليكم بعده أبداً (بحوالہ مشکوۃ المصابیح، رقم الحدیث: 625) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی اہل جنت سے کہے گا کہ اے اہل جنت، وہ کہیں گے اے ہمارے رب لبیک وسعدیک والخیر کلہ فی یدیک۔ اللہ تعالی فرمائے گا، کیا تم راضی ہو۔ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب، ہم کیوں نہ راضی ہوں، حالاں کہ تو نے ہم کو وہ چیز عطا فرمائی جو مخلوقات میں سے کسی دوسرے کو نہیں دی۔ اللہ تعالی فرمائے گا، کیا میں تم کو اس سے بھی زیادہ افضل چیز نہ دوں۔ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب، وہ کیا چیز ہے جو اس سے افضل ہے۔ اللہ فرمائے گا، میں تمھارے لیے اپنی رضا کو واجب کرتا ہوں، اس کے بعد اب میں کبھی تم سے ناراض نہ ہوں گا۔ جنت بلاشبہ تمام نعمتوں کا مجموعہ ہے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کی تمام خواہشیں اور تمنائیں کامل درجے میں پوری ہوں گی ۔ جو لوگ جنت میں داخل ہوں گے، وہ یہ محسوس کریں گے کہ اُنھیں تمام مسرتیں اپنی حقیقی صورت میں حاصل ہوگئیں ہیں۔ لیکن مکانی طور پر ایک اندیشہ اُن کے لیے پھر بھی موجود رہے گا، وہ یہ کہ جنت ان کو اللہ کے عطیہ کے طور پر ملی ہے، وہ خود اُس کے خالق نہیں ہیں۔ اللہ اگر چاہے تو جنت کو اُن سے چھین بھی سکتا ہے۔ مذکورہ حدیث اسی اندیشے کا جواب ہے۔ جب خود اللہ تعالی کی طرف سے اس کی ابدی رضا کا اعلان کر دیا جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جنت اب ہمیشہ کے لیے ان کی قیام گاہ بن چکی ہے، وہ ان سے کبھی چھینی جانے والی نہیں۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑی خوشی ہوگی جو اہل جنت کو حاصل ہوگی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues