Al-Risala · January 2010 · page 31

It is a peaceful translation of the Quran.

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۳۱

کرتے ہوئے کہا کہ— یہ قرآن کا پیس فل ترجمہ ہے:

It is a peaceful translation of the Quran.

اس تجربے سے معلوم ہوا کہ جدید ذہن یا مسیحی ذہن کو نفس قرآن سے کوئی ال رجی نہیں ہے۔ ان کی ال رجی کا سبب مسلم علماء کے اپنے اضافے ہیں جنہوں نے قرآن کی تفسیر میں یا اپنی کتابوں میں کر رکھے ہیں۔ ان اضافوں سے الگ کر کے اگر قرآن کو اس کی خالص شکل میں پیش کیا جائے تو وہ اس کو خوشی کے ساتھ قبول کریں گے۔

8 ستمبر 2009 کی صبح کو ہم لوگوں کو کریکو شہر کے باہر اُس مقام پر لے جایا گیا جس کو کنسنٹریشن کیمپ (Concentration Camp) کہا جاتا ہے۔ یہ کیمپ جس ایریا میں واقع ہے، اس کا نام آشوز (Auschwitz Birkenau) ہے۔ کار کے ذریعے یہ تقریبا ایک گھنٹے کا راستہ تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران پولینڈ پر قبضہ کرنے کے بعد ہٹلر نے یہ کیمپ بنوائے تھے۔ اس کو عام طور پر کنسنٹریشن کیمپ (Concentration Camp) کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد وہ مقام ہے جہاں کوئی حکومت اپنے ناپسندیدہ عناصر کو بند کر دے، یا ان کو سزا دے کر انھیں ختم کرنے کی کوشش کرے: Concentration Camp: Institution for detention of undesirable elements of population deemed dangerous by regime. یہ اصطلاح پہلی بار برٹش ایمپائر کے ذریعے بوئر جنگ (Boer War-1899-1902) کے زمانے میں استعمال کی گئی۔ اس کے بعد دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں ہٹلر نے اپنے ناپسندیدہ عناصر (undesirables) کے لیے اس کو استعمال کیا۔ مثلاً یہود اور پولینڈ کے کچھ باشندے ۔ کہا جاتا ہے کہ ان کیمپوں میں تقریباً 4 ملین انسان گیس چیمبر میں ڈال کر ختم کر دیئے گئے۔ ان مرنے والوں میں تقریباً 90 فی صد لوگ یہودی تھے جو مختلف ملکوں سے یہاں لائے گئے تھے۔ یہ گیس چیمبر اب بھی وہاں سیاحوں کی زیارت کے لیے موجود ہیں۔

ہٹلر (Adolf Hitler) اپنے مزاج کے اعتبار سے، ایک غالی نسل پرست (racist) تھا۔ اسی کے ساتھ وہ ایک شعلہ بیان خطیب (rabble-rouser) تھا۔ مشہور اقتصادی بحران کے زمانے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page