وہ آنے والا
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۱۳
وہ آنے والا
تمام مذاہب میں یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کے خاتمے سے پہلے ایک آنے والا آئے گا اور وہ ایک خصوصی رول ادا کرے گا۔ یہی تعلیم اسلام میں بھی ہے۔ قرآن میں بھی اس کے اشارات موجود ہیں، مثلاً خروج دابّہ وغیرہ، اور حدیث میں اس کو صراحتّاً بتایا گیا ہے۔ حدیث کی کتابوں میں جو روایات آئی ہیں، اُن میں اِس سلسلے میں تین لفظ استعمال کئے گئے ہیں— رجل مومن، مہدی، مسیح۔ بظاہر یہ تینوں الفاظ ایک ہی شخصیت کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ یہ طریقہ قرآنی اسلوب کے عین مطابق ہے۔ قرآن میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کئی لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ مثلاً عبد (17:1)، محمد (33:40)، احمد (61:6)، وغیرہ۔ اس سلسلے میں غوروفکر کے بعد چند باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ اس آنے والے شخص کی پہچان یہ نہیں ہوگی کہ وہ اپنے بارے میں اعلان کرے گا، اور یہ اللہ کی خصوصی رحمت کی بنا پر ہوگا۔ اس آنے والے شخص کو اگر بذریعہ وحی بتا دیا جائے کہ تمھیں وہ شخص ہو، تو اُس پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اعلان کر کے لوگوں کو اپنے بارے میں بتائے۔ مگر اس قسم کا مبنی بروحی اعلان بے حد سنگین ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اس قسم کے اعلان کے بعد اس کو سننے والے ایک بے حد نازک امتحان میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان کی نجات کا انحصار اس پر ہو جاتا ہے کہ وہ کھلے طور پر اس کا اقرار کریں۔ اگر وہ اقرار نہ کریں، تو شدید اندیشہ ہے کہ وہ غیر ناجی قرار پائیں گے۔ اِس لیے آنے والا اعلان کے ساتھ اپنے کام کا آغاز نہیں کرے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ آنے والے کی پہچان صرف ایک ہوگی، اور وہ اس کا استثنائی رول (exceptional role) ہے۔ لوگوں سے یہ مطلوب ہوگا کہ وہ اعلان کا انتظار نہ کریں، بلکہ وہ رول کو دیکھ کر بطور خود آنے والے کو پہچانیں اور اس کا ساتھ دیں۔ جو لوگ اس بصیرت کا ثبوت نہ دے سکیں، وہ تاریخ کے اس آخری امتحان میں بلاشبہ نا کام قرار پائیں گے۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، حدیث کی روایتوں میں قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والے شخص کے لیے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues