One who overcomes in the argument.
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۱۴
تین الفاظ استعمال کئے گئے ہیں _ رجل مومن، مہدی اور مسیح۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ تینوں کا رول ایک ہی بتایا گیا ہے، اور وہ ہے دجال کو قتل کرنا۔ اس میں یہ واضح اشارہ موجود ہے کہ تینوں سے مراد ایک ہی شخصیت ہے، ورنہ حدیث میں تینوں کے لیے الگ الگ رول بیان کئے جاتے۔ دجال کے قتل سے کیا مراد ہے۔ اس سلسلے کی روایتوں پر غور کرنے کے بعد یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس قتل سے مراد استدلالی قتل ہے، نہ کہ جسمانی قتل۔ صحیح مسلم میں اس سلسلے میں جو لفظ آیا ہے، وہ ’’حجیج‘‘ ہے۔ حجیج کا مطلب ہے _ حجت اور دلیل کے ذریعے غالب آنے والا:
One who overcomes in the argument.
دجال کے لفظی معنی ہیں _ بہت زیادہ فریب دینے والا (great deceiver)۔ حقیقت یہ ہے کہ دجال پر فریب نظریات کے ذریعے لوگوں کو مسحور کرے گا، وہ باطل کو خوش نما بنا کر پیش کرے گا۔ یہ دراصل اُسی چیز کی ایک مبالغہ آمیز صورت ہوگی جس کو شیطان کے حوالے سے قرآن میں تزئین (15:39) کہا گیا ہے۔ اس قسم کا فتنہ کبھی ایک شخص کی گردن کاٹنے سے ختم نہیں ہوتا۔ وہ اُسی وقت ختم ہوسکتا ہے، جب کہ استدلال کے ذریعے اس کو نظریاتی سطح پر پوری طرح باطل ثابت کر دیا جائے۔ دجال کا نظریاتی فتنہ تاریخ کا سب سے بڑا فتنہ ہوگا۔ اس لیے استدلال کی سطح پر اس کا خاتمہ کرنا بھی تاریخ کا ایک انتہائی عظیم واقعہ ہوگا۔ اسی بات کو صحیح مسلم (کتاب الفتن) کی ایک روایت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ھذا اعظم الناس شہادۃ عند رب العالمین۔ اس حدیث میں واضح طور پر شہادت سے مراد جسمانی قربانی نہیں ہے۔ جسمانی قربانی میں عظیم اور غیر عظیم کا کوئی فرق نہیں ہوتا۔ یہاں شہادت سے مراد گواہی (witness) ہے، یعنی دلائل ربانی کے ذریعے دلائل شیطانی کو آخری حد تک باطل ثابت کرنا۔
’’عظیم ترین شہادت‘‘ کے لفظ میں ایک اہم حقیقت کا اشارہ موجود ہے، وہ یہ کہ آنے والے کی پہچان یہ ہوگی کہ وہ اپنے رول کے اعتبار سے ایک استثنا (exception) ہوگا۔ وہ ایک ایثارول انجام دے گا جو پورے زمانے کے اعتبار سے ایک استثنائی رول ہوگا، اور یہی استشنا اس کی پہچان ہوگی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues