One who overcomes in the argument.
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۱۵
رجلِ مومن کے لفظ میں یہ اشارہ ہے کہ اس کی معرفت استثنائی درجے کی معرفت ہوگی۔ مہدی کے لفظ میں یہ اشارہ ہے کہ وقت کے تمام سوالات میں وہ استثنائی طور پر درست رہنمائی دینے کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔ مسیح کے لفظ میں یہ اشارہ ہے کہ وہ رأفت اور رحمت (57:27) بالفاظ دیگر امن (peace) کے اصول کا کامل معنوں میں اظہار کرے گا۔
آنے والے کے بارے میں حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایات آئی ہیں۔ ان میں سے اکثر روایتیں تمثیل کی زبان (symbolic language) میں ہیں۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ قدیم زمانے میں اسی اسلوب کا عام رواج تھا۔ چناں چہ خاتم النبیین (محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب) کے بارے میں جو پیشین گوئیاں بائبل میں آئی ہیں، وہ بھی تمثیل کی زبان میں ہیں۔ یہی اسلوب دور آخر میں ظاہر ہونے والے کے لیے حدیث کی کتابوں میں اختیار کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں فیصلہ کن بات یہ ہے کہ قیامت سے پہلے موجودہ دنیا میں جو واقعات پیش آنے والے ہیں، وہ پراسرار انداز میں پیش نہیں آئیں گے، بلکہ وہ معلوم اسباب کی صورت میں پیش آئیں گے۔ امتحان کی اس دنیا میں یہی اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، یہ سنت کبھی کسی کے لیے ختم ہونے والی نہیں۔ معاصر اہل ایمان کی ذمے داری حدیث میں، آنے والے کی نسبت سے، یہ الفاظ آئے ہیں: وجب علی کل مؤمن نصره وإجابته (أبو داؤد، كتاب المهدی) یعنی ہر مومن پر یہ واجب ہوگا کہ وہ اس کی آواز پر لبیک کہے اور اس کا ساتھ دے۔ اس حدیث رسول سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا جب آئے گا تو اُس وقت معاصر (contemporary) اہل ایمان کی ذمے داری کیا ہوگی۔ وہ ذمے داری یہ ہوگی کہ وہ اس کو پہچانیں اور اس کے مشن میں بھرپور طور پر اس کا ساتھ دیں۔
واضح ہو کہ آنے والے کے بارے میں بہت زیادہ روایات آئی ہیں، لیکن ان روایتوں میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ آنے والا اعلان کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کرے گا، اور نہ یہ کہا گیا ہے کہ اس کے معاصرین اعلان کے ساتھ اس کا اعتراف کریں۔ اس قسم کے اعلان کا ذکر روایتوں میں موجود نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues