Al-Risala · July 2010 · page 17

امت کا زوال

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۱۷

امت کا زوال

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے، مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں : عن ابی امامہ الباہلی، أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال : لينقضنّ عری الإسلام عروة عروة فکلما انتقضت عروة تشبّث الناس بالتی تليها (مسند احمد، رقم الحدیث : 21583) یعنی حضرت ابو امامہ الباہلی کہتے ہیں کہ ضرور ایسا ہوگا کہ اسلام کی کڑیاں ایک ایک کر کے ٹوٹ جائیں، جب کوئی کڑی (عُروة) ٹوٹے گی تو اس کے بعد جو چیز آئے گی، لوگ اس پر قائم ہو جائیں گے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشین گوئی میں دراصل زوال کے عمومی قانون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسری امتوں کی طرح مسلمانوں پر بھی زوال آجاۓ گا۔ اس کے بعد وہ اسلام کی خصوصیات کو ایک ایک کر کے چھوڑتے جائیں گے۔ ایک قوم کی حیثیت سے وہ پھر بھی موجود رہیں گے، لیکن اسلام کی اصل خصوصیات ان میں باقی نہ رہیں گی، اسلام کی اصل تعلیمات کے نام پر وہ بطورِ خود اسلام کا ایک نیا ایڈیشن تیار کر لیں گے اور اس خود ساختہ مذہب پر قائم ہو کر وہ یہ سمجھیں گے کہ ہم اسلام پر قائم ہیں۔ یہاں مختصر طور پر اس معاملہ کا ایک تاریخی جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ 1- باہمی قتال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مسلمانوں میں اسلام کا پہلا عروہ ٹوٹا، وہ یہ تھا کہ پیغمبر کی سخت ممانعت کے باوجود ان کے درمیان آپس کی جنگ شروع ہوگئی، اس کا آغاز تیسرے خلیفہ حضرت عثمان کے آخری زمانہ میں ہوا، اس وقت مسلم امت میں صحابہ کی تعداد کم اور غیر صحابہ کی تعداد زیادہ ہو چکی تھی، ان لوگوں نے ایک سیاسی شکایت کو لے کر حضرت عثمان کے خلاف قاتلانہ حملہ کیا، اس وقت حضرت عثمان نے یک طرفہ صبر کا طریقہ اختیار کیا۔ وہ پیغمبر اسلام کی وصیت کے مطابق، آدم کے دو بیٹوں میں سے بہتر بیٹے (کن خیر ابنی آدم) بن گئے۔ اس طرح سے یہ ہوا کہ یہ معاملہ دو طرفہ قتال تک نہیں پہنچا، بلکہ وہ یک طرفہ کارروائی پر ختم ہوگیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues

Printed page