Al-Risala · July 2010 · page 18

2۔ حکمران کے خلاف خروج

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۱۸

تاہم حضرت عثمان کی یہ تدبیر وقتی ثابت ہوئی، اس کے بعد علی ابن ابی طالب اور معاویہ ابن ابی سفیان کے زمانے میں باہمی قتال مزید شدت کے ساتھ ابھرا۔ وہ صرف اس وقت رُکا جب کہ دونوں فریق میں سے ایک کا خاتمہ ہو گیا۔

2۔ حکمران کے خلاف خروج

اسلام کا دوسرا عروہ جو بعد کی تاریخ میں ٹوٹا، وہ یہ تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید تاکید کے باوجود، مصلحین نے اپنے زمانہ کے حکمرانوں کے خلاف خروج (بغاوت) کا آغاز کر دیا، یہ خروج حسین ابن علی سے شروع ہوا، اور پھر وہ پوری تاریخ میں مختلف شکلوں میں جاری رہا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت صراحت کے ساتھ اپنی امت کو یہ حکم دیا تھا کہ لوگ مسلم حکمرانوں کے خلاف ہرگز خروج (مسلح بغاوت) نہ کرنا، تم اپنی کوششیں غیر سیاسی دائرہ تک محدود رکھنا، اور کسی بھی شکایت کو لے کر حکمرانوں سے ٹکراؤ نہ کرنا، مگر امت کے رہنماؤں نے مسلسل طور پر اس کی خلاف ورزی کی۔ بدقسمتی سے یہ خلاف ورزی اب تک جاری ہے۔

3۔ فقہی اختلافات

اسلام کے عروہ کے ٹوٹنے کا تیسرا واقعہ غالباً وہ تھا جو کہ فقہی اختلافات کی صورت میں پیش آیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا تھا کہ: أصحابي كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم (جامع بيان العلم وفضله 2/90) اس کا مطلب یہ تھا کہ دینی معاملات، خاص طور پر عبادات کے معاملہ میں اصحاب رسول کے درمیان فروق (differences) پائے جائیں گے، یہ فروق فطری ہوں گے اور بربنائے توسع ہوں گے، تو تم لوگوں کو آزاد چھوڑ دینا کہ وہ جس صحابی کے طریقہ کی پیروی کرنا چاہیں کریں، مگر دور عباسی کے فقہاء نے اس تعدد کو نا درست سمجھا، اور غیر ضروری طور پر اس کو ایک بنانے کی کوشش کی۔ یہ تو حد عملاً ناممکن تھا، چناں چہ تو حد کی کوشش کا یہ منفی نتیجہ نکلا کہ متعدد فقہی اسکول قائم ہو گئے ۔ فقہی مسائل میں اسی منحرفانہ طریقہ کا یہ نتیجہ ہے کہ امت متفرق فرقوں میں بٹ گئی اور امت کی سطح پر اتحاد بظاہر ایک ناممکن چیز بن گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues

Printed page