Al-Risala · July 2010 · page 19

4- دعوت کا باب حذف

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۱۹

4- دعوت کا باب حذف

پیغمبر اسلام کی اصل حیثیت یہ تھی کہ وہ داعی اور مبلغ تھے، آپ کی پوری زندگی دعوت و تبلیغ اور انذار و تبشیر کا نمونہ تھی، لیکن بعد کے زمانے میں جب اسلامی علوم کی تدوین ہوئی تو مسلمان مختلف اسباب سے دعوت کا سبق بھول چکے تھے۔ چناں چہ تدوین علوم کے زمانہ میں اسلام کا چوتھا عروہ یعنی دعوت مکمل طور پر حذف ہوگیا۔ اس زمانہ میں حدیث کی جو کتابیں مدوّن کی گئیں، وہ دعوت کے ابواب سے خالی تھیں ۔ اسی طرح اسلامی فقہ پر جو کتابیں لکھی گئیں، ان میں بھی دعوت و تبلیغ کا باب موجود نہ تھا۔ اسی طرح قرآن کی جو تفسیریں عربی زبان میں لکھی گئیں، وہ سب کی سب غیر دعوتی اسلوب پر لکھی گئیں ۔ اسی طرح اسلام کی جو تاریخ لکھی گئی، وہ بھی سیاسی پیٹرن پر تھیں نہ کہ دعوتی پیٹرن پر۔ یہی تقری باً اس پورے کلاسیکل لٹریچر کا معاملہ ہے جو بعد کے زمانہ میں عربی زبان میں مرتب کیا گیا۔ 5- تدبر کے بجائے مراقبہ اسلام کا پانچواں عروہ جو بعد کے زمانہ میں ٹوٹا، وہ تفکر و تدبر تھا۔ یہ کام زیادہ تر مسلم صوفیاء کے ذریعہ انجام پایا۔ اصل اسلام میں تزکیہ اور روحانیت کی بنیاد تمام تر تفکر و تدبر پر قائم تھی، لیکن صوفیاء نے دوسروں کی تقلید (مضاهاة) میں یہ کیا کہ مراقبہ (meditation) پر اسلامی روحانیت کی بنیاد رکھ دی۔ یہ بلاشبہ ایک خود ساختہ بنیاد تھی۔ اس کا عظیم نقصان یہ ہوا کہ اہل اسلام اُس معرفت سے محروم ہوگئے جو اصحاب رسول کا امتیازی وصف تھا۔ معرفت بلاشبہ مؤمن کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ معرفت کا حصول تدبر سے ہوتا ہے جس کا ذریعہ عقلی غور و فکر ہے، مگر صوفیاء نے عقلی غور و فکر کو حذف کر کے قلب پر توجہ کو معرفت کے حصول کا ذریعہ سمجھ لیا، جب کہ قلب میں سرے سے معرفت کا سامان موجود ہی نہ تھا۔ اس طرح بعد کے زمانہ میں پوری امت اعلیٰ معرفت سے محروم ہوکر رہ گئی ۔

6- غیر ریاستی جہاد

اسلام میں اس قسم کے نقصان کی چھٹی مثال وہ ہے جو انیسویں صدی میں تو آبادیاتی دور میں سامنے آئی ۔ یہ مفروضہ دشمنوں کے خلاف مسلح جنگ کا معاملہ تھا۔ برطانیہ کے خلاف جنگ، فرانس کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues

Printed page