Al-Risala · July 2010 · page 20

7 - انسان کو دشمن قرار دینا

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۲۰

خلاف جنگ، اسرائیل کے خلاف جنگ وغیرہ، یہ تمام جنگیں اسلام کے ایک عروہ کو توڑنے کے ہم معنی تھیں، وہ یہ کہ جہاد (بمعنی قتال) صرف باقاعدہ قائم شدہ اسٹیٹ کا کام تھا، وہ عوام کی ذمہ داری نہیں (الرحیل للإمام)۔ لیکن موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے عام طور پر اسلام کے اس عروہ کو توڑنے میں حصہ لیا، کچھ لوگوں نے قولی اعتبار سے اور کچھ لوگوں نے عملی اعتبار سے۔ پچھلے تقریباً دو سو سال سے مسلمان دوسری قوموں کے ساتھ مسلح جہاد میں مشغول ہیں۔ مگر یہ جہاد زیادہ تر آزاد مسلم تنظیمیں (NGOs) کررہی ہیں، نہ کہ باقاعدہ طور پر قائم شدہ مسلم حکومتیں ۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، مسلم تنظیموں کو صرف پر امن دائرہ میں کام کرنے کا حق ہے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر ان کو ہرگز یہ اجازت نہیں کہ وہ ہتھیار اٹھائیں، مگر تحلیلِ حرام کا یہ کام موجودہ زمانہ میں بہت بڑے پیمانہ پر ہوا، اور تادم تحریر (20 اپریل 2010) وہ بدستور جاری ہے۔ اسلام کے اس عروہ کو توڑنے کا جو نقصان اہل اسلام کو پہنچا ہے، وہ بلاشبہ تمام دوسرے نقصانوں سے زیادہ بڑے نقصان کی حیثیت رکھتا ہے۔

7 - انسان کو دشمن قرار دینا

اسلام کی تعلیم کے مطابق، تمام انسان صرف انسان ہیں، تمام دنیا دار الانسان کی حیثیت رکھتی ہے۔ مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ تمام انسانوں کو یکساں طور پر بھائی اور بہن سمجھیں، وہ تمام انسانوں کے لئے یکساں طور پر خیر خواہ بنیں، وہ تمام انسانوں کو اللہ کا پیغام، مثبت انداز میں پہنچائیں۔ لیکن بعد کے دور میں مسلمانوں نے اسلام کے اس عروہ کو توڑ دیا۔ عباسی دور کے فقہاء نے دنیا کو بطور خود دارالحرب اور دارالکفر اور دارالاسلام میں بانٹ دیا، حالاں کہ اس درجہ بندی کا کوئی ماخذ قرآن اور سنت میں موجود نہ تھا۔ یہ غلطی آج تک مزید اضافہ کے ساتھ جاری ہے، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے تمام دنیا عملاً کو دارالنسان کے بجائے دار اعداء بنا رکھا ہے۔ وہ خود ساختہ عذر لے کر انسان سے نفرت کرنے لگے، حالاں کہ انسان سے نفرت کرنا اسلام میں سرے سے جائز نہیں۔

8 - مبنی بر نظام تشریح

اسلام کی اصل تعلیمات کے مطابق، اسلام کا نشانہ فرد (individual) ہے۔ فرد کی سوچ کو بدلنا،

‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues

Printed page