9- رجال کو معیار بنانا
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۲۱
فرد کو ربانی انسان بنانا، فرد کا تزکیہ کرنا۔ مگر بعد کے زمانہ میں اسلام کا یہ عروہ بھی توڑ دیا گیا۔ اب اجتماعی نظام کو بنیاد بنا کر اسلام کی تشریح و تعبیر کی جانے لگی، یہ بلاشبہہ اسلام میں ایک انحراف تھا۔ جب آپ فرد کے اندر فکری تبدیلی لانے کو اپنا نشانہ بنائیں تو اس سے کوئی برائی نہیں پیدا ہوتی، لیکن جب آپ اجتماعی نظام یا سسٹم (system) کے بدلنے کو اپنا نشانہ بنائیں تو فوراً یہ ہوتا ہے کہ لوگ دو گروہوں میں بٹ جاتے ہیں، اور اس کے فطری نتیجہ کے طور پر طبقاتی جنگ (class war) شروع ہو جاتی ہے۔ ایک طرف حاکم طبقہ ہوتا ہے اور دوسری طرف غیر حاکم طبقہ۔ غیر حاکم طبقہ اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور حاکم طبقہ اقتدار کو اپنے پاس محفوظ کرنا چاہتا ہے۔ اس طرح ایک ایسی تباہ کن جنگ چھڑ جاتی ہے جو صرف اس وقت ختم ہوتی ہے جب کہ دونوں میں سے ایک فریق دوسرے فریق کو فنا کر دے۔
9- رجال کو معیار بنانا
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ : ترکت فیکم أمرین، لن تضلوا ما تمسكتم بهما : کتاب الله و سنة نبيه (موطاً، النهي عن القول بالقدر ) یعنی میں تمھارے اندر دو بنیادی چیزیں چھوڑ رہا ہوں جب تک تم ان کو پکڑے رہوگے، تم گمراہ نہ ہوگے۔ یہ دو چیزیں ہیں ــــ خدا کی کتاب، اور اس کے رسول کی سنت ۔ یہ بلاشبہہ اسلام کا ایک اہم عروہ تھا، لیکن بعد کے زمانہ میں یہ عروہ عملاً بالکل توڑ دیا گیا۔ بعد کے زمانہ کے مسلمانوں کے دین کا ماخذ اصلاً قرآن اور سنت نہیں رہا، بلکہ ان کے اکابر ان کے دین کا ماخذ بن گئے۔ اس تبدیلی نے اصل اسلام کو عملاً ایک معطل دین بنا دیا ہے۔ اب تقریباً تمام مسلمان دین کے نام پر خود اپنے اکابر کے مذہب پر قائم ہیں۔ اس کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ کسی بھی معاملہ میں لوگوں کے سامنے قرآن اور سنت کا حوالہ دیجیے تو ان کو زیادہ اہم معلوم نہ ہوگا، لیکن اگر ان کے اپنے اکابر کے اقوال و آراء کا حوالہ دیجیے تو وہ فوراً اس کو قبول کر لیں گے۔ وہ اس آیت قرآن کے مصداق بن جائیں گے : إذا هم يستبشرون (الزمر: 45)۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لئے ان کے دین کا ماخذ قرآن اور سنت
‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues