Al-Risala · July 2010 · page 22

9- رجال کو معیار بنانا

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۲۲

نہیں ہے، بلکہ عملاً ان کے اپنے اکابر ان کے دین کا ماخذ ہیں۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کا عین وہی حال ہوا ہے جس کو قرآن میں یہود کا شیوہ بتایا گیا ہے: اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أربابا من دون الله (التوبة: 31)

آخری بات

مذکورہ روایت میں ایک لفظ تشبّت استعمال ہوا ہے، تشبّت کے لفظی معنی ہیں چمٹنا (to cling) روایت میں بتایا گیا ہے کہ جب اسلام کا ایک حکم ٹوٹے گا اور اس کی جگہ دوسری صورت آجاۓ گی تو لوگ اس دوسری صورت پر قائم ہو جائیں گے۔ جیسا کہ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ جب میری امت میں تلوار داخل ہوگی تو وہ پھر اس سے اٹھائی نہ جاسکے گی (إذا وضع السيف في أمتی، لم يُرفع عنها إلى يوم القيامة ) ایسا کیوں ہوگا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کسی قوم میں کوئی روایت (tradition) لمبی مدت کے بعد قائم ہوتی ہے، اور جب ایک روایت ٹوٹ جائے تو دوبارہ ان تاریخی اسباب کو یکجا کرنا سخت مشکل ہو جاتا ہے، جن کے تحت وہ روایت قائم ہوئی تھی۔ اس لئے کوئی روایت ٹوٹنے کے بعد عملاً قائم نہیں ہوتی۔ کسی نے بجاطور پر کہا ہے کہ۔ ایک چھوٹی سی روایت بنانے کے لیے بہت لمبی تاریخ درکار ہوتی ہے:

It requires a lot of history to make a little tradition. اسلام کی تاریخ میں یہ اصول واقعہ بن چکا ہے۔ جو حکم ایک بار توڑ دیا گیا، وہ دوبارہ پہلے کی طرح قائم نہ ہوسکا۔ مسلمانوں کے غیر دانش مند رہنماؤں نے جذباتی سیاست کے تحت بار بار روایتوں کو توڑ ڈالا، چناں چہ اب امت مسلمہ تمام صالح روایات سے کٹی ہوئی ایک قوم بن چکی ہے۔ اس کے مہلک نتائج کا علم ہر ایک کو ہے، لیکن وہ مزید نادانی یہ کر رہے ہیں کہ وہ اس کو ''اغیار کی سازش‘‘ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، حالاں کہ صحیح طریقہ یہ تھا کہ اپنی غلطی کو مان کر ان روایتوں کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues

Printed page