امن، امن، امن
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۲۳
امن، امن، امن
بیسویں صدی کے آخر تک تمام دنیا کے مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ عرب سے لے کر عجم تک ہر جگہ صرف ایک آواز گونجتی تھی، اور وہ جہاد کی آواز تھی۔ کچھ مسلمان عملاً مسلح جہاد میں مشغول تھے اور کچھ مسلمان جہادی بولی بولتے تھے۔ عرب دنیا میں عرب شاعر الزرکلی (وفات: 1976) کا یہ شعر گونجتا تھا: جدّدی حطّین أو شبه حطّینا هات صلاح الدین ثانیة فینا برصغیر ہند کے رہنما بھی سب کے سب اسی قسم کی بولی بولتے تھے۔ انھوں نے مسلم مسائل کے حل کے لیے’’فلسفۂ اضرار‘‘ دریافت کیا۔ وہ جوش کے ساتھ یہ شعر پڑھتے تھے:
اگر کانٹوں میں ہو خوئے حرِیری حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے یہی سوچ اُن مسلمانوں کی تھی جو یورپ اور امریکا میں رہتے ہیں۔ وہ یہ کہہ کر نام نہاد مجاہدین کی تبریر (justify) کرتے تھے کہ ظالموں کو سبق سکھانے کے لیے ہمیں کچھ کرنا ہی پڑے گا: We have to teach them a lesson یہ صورتِ حال بیسویں صدی عیسوی کے آخر تک ہر جگہ باقی رہی۔ ہر جگہ کے لکھنے اور بولنے والے مسلمان کسی نہ کسی الفاظ میں اس طرح کی بات لکھتے تھے یا بولتے تھے۔ بیسویں صدی کا مسلم میڈیا یا اس قسم کی باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ ذہن صرف اُن لوگوں کا نہیں تھا جو صحافت یا اسٹیج کی سرگرمیوں میں نمایاں ہوتے ہیں، بلکہ یہی ذہن ان لوگوں کا بھی تھا جو بظاہر صحافت اور اسٹیج سے دور ہیں۔ اُن سے بھی گفتگو کیجئے تو معلوم ہوتا تھا کہ وہ بھی اُسی تلخی اور شکایت میں جی رہے ہیں جس میں دوسرے لوگ مبتلا ہیں۔ گویا کہ کچھ لوگ اگر ایکٹیو جہاد (active jihad) میں سرگرم تھے، تو دوسرے لوگ پیسیو جہاد (passive jihad) میں سرگرم۔
یہ صورتِ حال اتفاقی نہ تھی۔ پچھلے ہزار سال میں مسلمانوں کے درمیان جو لٹرپچر تیار ہوا، اُس میں سب کچھ تھا، مگر اْس میں دو چیز مکمل طور پر حذف تھی اور وہ ہے دعوت اور امن کا تصور۔ اِس کے بعد
‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues