Al-Risala · July 2010 · page 24

امن، امن، امن

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۲۴

جب مغربی طاقتوں نے مسلم ایمپائر کو توڑ دیا تو اس کے خلاف ردعمل کی بنا پر یہ ذہن اور زیادہ پختہ ہوگیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیسویں صدی عیسوی کی پوری، منفی سوچ اور منفی سرگرمیوں کی نذر ہو گئی۔ اس پوری صدی میں نہ دعوت کا پیغام لوگوں کے سامنے آیا اور نہ امن کا پیغام، جب کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

راقم الحروف پر اللہ تعالی نے استثنائی طور پر دعوت اور امن کی اہمیت کھولی۔ 1947 میں انڈیا کی آزادی کے بعد میں نے اللہ کی توفیق سے یہ کام شروع کیا۔ دسمبر 1950 میں، میں اعظم گڑھ میں تھا۔ اُس وقت وہاں سبزی منڈی ہال میں ایک نمائش (exhibition) لگائی گئی۔ میں نے مرحوم یوسف آرٹسٹ اور دوسرے ساتھیوں کی مدد سے وہاں پہلی بار اسلامی کتابوں کا ایک بک اسٹال لگایا۔ اس بک اسٹال کے اوپر لال رنگ کے روشن حروف میں ایک سائن بورڈ لگایا گیا جو اتنا بڑا تھا کہ وہ گیٹ سے دکھائی دیتا تھا۔ اس سائن بورڈ پر قرآن کی آیت: واللہ يدعو إلى دار السلام (يونس : 25) کا انگریزی ترجمہ ان الفاظ میں لکھا ہوا تھا:

And God calls to the home of peace (10:25)

اس آیت میں بیک وقت دو باتیں کہی گئی ہیں — دعوت اور امن۔

اس کے بعد میں اپنے طور پر دعوتی کام کرتا رہا۔ 19-18 فروری 1955 کو لکھنؤ کے امین الدولہ پارک میں جماعتِ اسلامی ہند کے زیر اہتمام ایک اجتماع ہوا۔ اس موقع پر میں نے اپنا ایک مقالہ پڑھا جو بعد کو تین زبانوں میں شائع ہوا— اردو، ہندی، انگریزی۔ اس کا اردو ٹائٹل ”نئے عہد کے دروازہ پر‘‘ تھا۔ اور ہندی میں ”نو یگ کے پرولیش دوار پر‘‘ اور انگریزی میں اس کا ٹائٹل یہ تھا: On the Threshold of a New Era اللہ کی توفیق سے یہ کام بلا انقطاع جاری رہا۔ اس مقصد کے لیے میں نے 1950 میں ادارہ اشاعتِ اسلام قائم کیا۔ اس کے بعد 1970 میں اسلامک سنٹر کے نام سے نئی دہلی میں ایک دعوتی مرکز قائم کیا۔ 2001 میں سنٹر فار پیس اینڈ اسپرچولیٹی (سی پی ایس انٹرنیشنل) کا قیام عمل میں آیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues

Printed page