امن، امن، امن
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۲۵
بیسویں صدی کے آخر تک یہ حال تھا کہ لوگ اس کام کو ون مین شو (one man show)
کہتے تھے۔ تاہم اللہ کی توفیق سے یہ کام مسلسل جاری رہا۔ اردو، عربی، ہندی اور انگریزی میں سیکڑوں کتابیں تیار ہوکر ہر جگہ پھیلیں۔ پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا یا دونوں کے ذریعے مسلسل یہ پیغام لوگوں کے سامنے آتا رہا۔ اسی کے ساتھ بار بار مجھے بین الاقوامی کانفرنسوں میں نیز ملک کے اندر ہونے والی کانفرنسوں میں شرکت کا موقع ملا۔ ہر جگہ میں نے اس مشن کو لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔ تاہم لوگ اپنی کنڈیشننگ کی بنا پر اس پیغام کی اہمیت کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتے تھے۔ میری آواز ابتدا لوگوں کی نظر میں عرصے تک تقریباً اجنبی بنی رہی۔ مثال کے طور پر 1965 کا واقعہ ہے۔ لکھنؤ کا ایک اردو جریدہ، جو اُس وقت ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان مقبول ترین جریدہ تھا، اُس نے میرے مضامین کو یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ’’ آپ کے مضامین ہمارے جریدے میں کھپ نہیں رہے ہیں‘‘۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مذکورہ جریدہ احتجاجی اسلوب پر نکالا گیا تھا۔ اس کے مقابلے میں، میرے مضامین تعمیری اسلوب پر لکھے گئے تھے۔ اس فرق کی بنا پر میرے مضامین مذکورہ جریدے کے لیے ناقابلِ قبول بن گئے۔ اسی طرح الاخوان المسلمون کا ہفت روزہ جریدہ’’الدعوۃ‘‘ جو قاہرہ سے نکلتا تھا اور عرب دنیا میں بے حد مقبول تھا، اْس میں میرے خلاف ایک مضمون شائع ہوا۔ جس میں میرے دعوتی مشن کو نئی قادیانیت (قاديانيّـة جديدة) بتایا گیا تھا۔ مذکورہ جریدہ الاخوان المسلمون کے نقطۂ نظر کا ترجمان تھا جو مسلح جہاد کے ذریعے مقاصدِ ملت کا حصول چاہتے تھے، اِس لیے اِس جریدے کو میرا نقطۂ نظر سمجھ میں نہ آیا جو پُر امن دعوت کے اصول پر قائم ہے۔ تاہم اکیسویں صدی کے آتے ہی صورتِ حال یکسر بدل گئی۔ آج تمام دنیا کے مسلمان امن کی اور دعوت کی بات کر رہے ہیں، جگہ جگہ امن اور دعوت کے نام پر بڑی بڑی کانفرنسیں منعقد کی جارہی ہیں۔ مثال کے طور پر میڈرڈ (اسپین) میں جولائی 2008 کوسعودی حکومت کے تحت’’ بین الاقوامی امن کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی، اور دسمبر 2008 میں مکہ میں’’بین الاقوامی دعوت کانفرنس‘‘ کا انعقاد عمل میں آیا، وغیرہ۔
یہ ایک واقعہ ہے کہ آج ساری دنیا کے مسلمانوں میں دعوت اور امن کی باتیں ہو رہی ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues