امن، امن، امن
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۲۶
سیکولر مسلمان اور مذہبی مسلمان دونوں اپنے اپنے انداز میں اسی قسم کی بات کہہ رہے ہیں۔ اکیسویں صدی عیسوی میں یہ نئی صورت حال اللہ کی توفیق سے ہمارے مشن کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔
کسی بھی بڑے واقعے کے ظہور میں کچھ معاون اسباب کام کرتے ہیں۔ یہی ہمارے مشن کے ساتھ پیش آیا۔ حضرت عائشہ کی روایت کے مطابق، ہجرت کے پانچ سال پہلے اوس اور خزرج کے درمیان پیش آنے والی جنگِ بُعاث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے لیے ایک مددگار واقع کی حیثیت رکھتی تھی (كان يوم بُعاث يوماً قدّمه الله لرسوله صلی اللہ علیہ وسلم) ۔ جنگ بُعاث میں مدینہ کے بڑے بڑے سردار ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد وہاں مزاحمت (resistance) کرنے والے لیڈر باقی نہ رہے۔ (فتح الباری، جلد 7، صفحہ 137، كتاب المناقب، باب مناقب الأنصار)۔
11 نومبر 2001 میں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو توڑنے کا مشہور واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کے بعد امریکا غضب ناک ہو گیا۔ اس نے عراق اور افغانستان کے خلاف براہ راست طور پر اور پوری مسلم دنیا کے خلاف بالواسطہ طور پر ایک انتقامی جنگ چھیڑ دی۔ اس جنگ میں نام نہاد جہاد کے اکابر رہنما یا تو مارے گئے یا وہ خاموش ہو گئے۔ امریکا کا یہ آپریشن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک خدائی آپریشن تھا۔ اُس نے اُن تمام طاقتوں کو زیر کر دیا جو امن اور دعوت کے مشن کے خلاف محاذ بنائے ہوئے تھے۔ چناں چہ آج ہر شخص دیکھ رہا ہے ساری مسلم دنیا میں تمام زبانیں اور تمام قلم امن اور دعوت کی بات کہہ رہے ہیں۔ آخری زمانے کے جس دور امن کی پیشین گوئی حدیث میں گئی تھی، وہ دورِ امن اب پوری طرح آچکا ہے۔ اب ہماری ذمے داری یہ ہے کہ جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کے فریضے کو انجام دیں، یہاں تک کہ حدیث کے الفاظ میں، اسلام کا کلمہ (كلمة الإسلام) دنیا کے تمام چھوٹے اور بڑے گھروں میں داخل ہو جائے۔
خصوصی شمارہ ”قیامت کا الارم“ علاحدہ پمفلٹ کی صورت میں تیار ہو گیا ہے۔ اس کو گولڈ ورڈ بکس سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues