مسلمانوں کی علیحدہ سیاسی پارٹی
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۲۷
مسلمانوں کی علیحدہ سیاسی پارٹی
کیا مسلمانوں کی علیحدہ سیاسی پارٹی ہونا چاہیے، یہ سوال گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنے کے ہم معنی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پولٹکل پارٹی سے پہلے، پولٹکل تیاری ضروری ہوتی ہے۔ پولٹکل تیاری سے پہلے، پولٹکل پارٹی بنانا ایسا ہی ہے جیسے کسی شخص نے پروفیشنل ٹریننگ نہ لی ہو، اس کے باوجود وہ جاب مارکیٹ میں چھلانگ لگا دے۔
مسلمانوں کے نام نہاد رہنماؤں کا حال یہ ہے کہ الیکشن سے پہلے کی مدت میں وہ مسلمانوں کی کوئی سیاسی تربیت نہیں کرتے، البتہ جب الیکشن کا زمانہ آتا ہے تو وہ فوراً اسٹیج کی تقریروں کے ذریعہ یہ اعلان کرنے لگتے ہیں کہ مسلمانوں کی ایک علیحدہ سیاسی پارٹی ہونا چاہیے۔ موجودہ حالت میں مسلمانوں کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ اپنی سیاسی ترجیح (political priority) کو جانیں۔ پولٹکل پارٹی بنانا یقینی طور پر موجودہ حالت میں مسلمانوں کی سیاسی ترجیح نہیں۔
اس معاملے میں سب سے پہلی قابلِ غور بات یہ ہے کہ 1947 سے پہلے اور 1947 کے بعد مسلمانوں کی کئی سیاسی پارٹیاں بنائی گئیں، مگر جلسہ جلوس کی دھوم کے باوجود اُن کا کوئی مثبت نتیجہ مسلمانوں کے حصے میں نہیں آیا۔ مثال کے طور پر 1964 میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت بنائی گئی ۔ وہ کم از کم جزئی معنی میں ایک پولٹکل پارٹی تھی۔ اس کے بعد 1968 میں آل انڈیا مسلم مجلس بنائی گئی جو کہ پورے معنوں میں ایک پولٹکل پارٹی تھی۔ ان دونوں جماعتوں نے پالیٹکس میں عملی حصہ لیا، مگر جہاں تک مثبت نتیجے کا تعلق ہے، اس کا کچھ بھی فائدہ مسلمانوں کے حصے میں نہیں آیا۔ اصل یہ ہے کہ پولٹکل پارٹی سے پہلے ہمیشہ اس کے موافق پولٹکل بنیاد (political base) درکار ہوتی ہے۔ بنیاد کے بغیر عمارت نہیں، اسی طرح پولٹکل بنیاد کے بغیر پولٹکل پارٹی بھی نہیں۔ پولٹکل بنیاد کیا ہے، اس کو یہاں مختصر طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
1 - پولٹکل بنیاد (political base) کے معاملے میں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ ملت کے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues