Al-Risala · July 2010 · page 28

مسلمانوں کی علیحدہ سیاسی پارٹی

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۲۸

افراد کے اندر سیاسی شعور موجود ہو۔ کہا جاتا ہے کہ ـــ سیاست ممکنات کا کھیل ہے: Politics is the art of the possible. اس کے مطابق، ملت کے افراد سیاسی اعتبار سے اتنا زیادہ با شعور ہوں کہ وہ جانیں کہ سیاسی تدبیروں سے کیا چیز قابل حصول ہوتی ہے اور کیا چیز قابل حصول نہیں۔ موجودہ مسلمانوں کے بارے میں مسلسل تجربات کے مطابق ، یقینی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے عوام اور خواص دونوں سیاسی شعور سے بالکل بے بہرہ ہیں۔ مسلم خواص ، سیاست کے اعتبار سے صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ اسٹیج سے جذباتی تقریریں کریں۔ اور مسلم عوام صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ اس قسم کی تقریروں پر تالیاں بجائیں۔ حقیقت پسندانہ سیاست سے مسلم خواص بھی بے خبر ہیں اور مسلم عوام بھی۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کی علاحدہ سیاسی پارٹی بنانے کا فائدہ صرف یہ ہو سکتا ہے کہ میڈیا میں کچھ وقتی چرچا ہو اور کچھ غیر قائد قسم کے مسلمانوں کو مسلم قائدین کا ٹائٹل مل جائے۔ موجودہ حالت میں اس سے زیادہ کسی اور فائدے کی امید رکھنا، فرضی خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔

2 - اس سلسلے میں دوسری اہم چیز یہ ہے کہ مسلمانوں میں سیاسی اعتبار سے کامل اتحاد پایا جاتا ہو۔ موجودہ حالت میں یہ اتحاد بالکل مفقود ہے۔ اس کی ایک سنگین مثال یہ ہے کہ موجودہ ہندوستان کے کئی حلقہ انتخاب میں مسلمان تقریباً اکثریت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن ہر الیکشن میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ان حلقوں میں بہت کم کوئی مسلم نمائندہ کامیاب ہو کر آتا ہے۔ اس کی سادہ وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان حلقوں میں کئی مسلمان امیدوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس بنا پر مسلمانوں کے ووٹ بٹ جاتے ہیں۔ ایسے کسی حلقے میں اگر صرف ایک مسلم امیدوار ہو تو اس کی جیت یقینی ہے، لیکن جب کئی مسلم امیدوار کھڑے ہو جاتے ہیں تو ووٹ بٹ جانے کی وجہ سے سب کے سب ہار جاتے ہیں، اور کسی ایسی پارٹی کا امیدوار کامیاب ہو جاتا ہے جس کو مسلمانوں نے بطور خود اپنا دشمن قرار دے رکھا تھا۔ سروے کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ پارلیمنٹ کے تقریباً ایک سو حلقوں میں مسلمان الیکشن میں جیتنے کی پوزیشن میں ہیں ، لیکن اپنی اسی سیاسی بے شعوری کی بنا پر وہ اس موقع (opportunity) سے فائدہ نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues

Printed page