مسلمانوں کی علیحدہ سیاسی پارٹی
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۲۹
اٹھاپاتے اور پارلیمنٹ میں ان کی تعداد ہمیشہ واقعی تعداد سے بہت کم رہتی ہے۔ 3- صحافت کو سیاست کا چوتھا ستون (fourth estate) بتایا جاتا ہے۔ موجودہ حالت یہ ہے کہ مسلمانوں میں یہ چوتھا ستون عملاً موجود ہی نہیں۔ مسلمانوں کے جو اخبارات ہیں، ان کی اشاعت اتنی زیادہ محدود ہوتی ہے کہ وہ مسلّمہ صحافتی معیار کے مطابق، قابلِ ذکر ہی نہیں۔ جب کہ مشہور مقولہ ہے کہ— جس قوم کی صحافت نہیں، اُس قوم کی سیاست بھی نہیں۔
اس صحافتی پس ماندگی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں کوئی اخبار محض اپنی قیمتِ فروخت پر نہیں چل سکتا، وہ صنعتی اشتہارات کے ذریعے چلتا ہے۔ مسلمانوں کی موجودہ حالت یہ ہے کہ اُن کے پاس اعلیٰ صنعت موجود نہیں۔ اس لیے اُن کے پاس وہ بڑے تجارتی ادارے بھی موجود نہیں جو قیمتی اشتہارت کے ذریعے اخبارات کو فیڈ (feed) کر سکتے ہوں۔ مسلمانوں کی اسی کمزوری کی بنا پر اُن کے اخبارات زرد صحافت (yellow journalism) کا نمونہ بن جاتے ہیں۔ اُن کا انحصار زیادہ تر قیمتِ فروخت پر ہوتا ہے، اس لیے وہ سنسنی خیز خبریں چھاپتے ہیں، تا کہ وہ صنعتی اشتہارات کی اس کمی کو پورا کر سکیں۔
4- مسلمان جب بھی علاحدہ پولیٹکل پارٹی کی بات کرتے ہیں تو وہ صرف اپنی کمیونٹی کے محدود مسائل کے ذہن کی بنا پر کرتے ہیں۔ مثلاً فرقہ وارانہ فساد، ملازمتوں میں امتیاز، وغیرہ۔ جمہوریت کے دور میں اس قسم کے محدود موضوعات کو لے کر کوئی کامیاب سیاسی پارٹی نہیں بنائی جا سکتی۔ کامیاب سیاسی پارٹی صرف وہ گروہ بنا سکتا ہے جس کے اندر قومی سوچ (national thinking) ہو، جو پورے ملک کے مسائل کو لے کر سوچ سکتا ہو۔ جمہوریت کے زمانے میں کمیونٹی کے مسائل بھی صرف وسیع تر قومی تناظر میں رکھ کر حل کئے جاسکتے ہیں، اس کے بغیر نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمان جس چیز کو سیاست سمجھتے ہیں، وہ صرف گھیٹو سیاست (ghetto politics) کا ایک خودساختہ ایڈیشن ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ تقریباً ہر روز مسلمانوں کے جلسے جگہ جگہ ہوتے رہتے ہیں، لیکن یہ جلسے ہمیشہ کمیونٹی کے ایشو کو لے کر ہوتے ہیں، نہ کہ ملکی ایشو کو لے کر۔ اس قسم کا ذہن رکھنے والے لوگ سیاسی پارٹی بنانے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues