مسلمانوں کی علیحدہ سیاسی پارٹی
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۳۰
کے لیے قطعاُ نا اہل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے ساٹھ برسوں میں مسلمانوں کے درمیان بار بار اس طرح کی تحریکیں اٹھائی گئیں لیکن عملاً وہ سب کی سب ناکام ہوکر رہ گئیں۔
5۔ سیاسی پارٹی بنانا کوئی سادہ بات نہیں۔ عملی اعتبار سے یہ سیاست کے دنگل میں چھلانگ لگانے کے ہم معنی ہے۔ سیاسی پارٹی بنانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایک ایسے میدانِ مقابلہ میں داخل ہوگئے، جہاں ہر قدم پر ایک سیاسی حریف کھڑا ہوا ہے، ہر قدم پر ایک ایسا موقع پرست لیڈر موجود ہے جس کا یہ عقیدہ ہے کہ آپ کی ہار میں اُس کی جیت کا راز چھپا ہوا ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں میں نہ پہلے ایسا کوئی دانش مند لیڈر موجود تھا اور نہ اب کوئی ایسا دانش مند لیڈر موجود ہے جو اس راز کو سمجھ سکے۔ ہمارے تمام لیڈر صرف دوسروں کے خلاف شکایت کی زبان بولنا جانتے ہیں، حالاں کہ کامیاب سیاسی لیڈر وہ ہے جو شکایتوں کے جنگل میں اپنا راستہ نکالنے کا فن جانتا ہو۔
مسلمانوں کے درمیان اس قسم کے لیڈر کا فقدان ہے، اور اگر ایسا کوئی لیڈر موجود ہو تو یقینی طور پر وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ مختلف اسباب سے، موجودہ زمانے کے مسلمان اتنا زیادہ جذباتی ہوچکے ہیں کہ وہ کسی حقیقت پسند لیڈر کی بات نہ سمجھیں گے اور نہ وہ اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوں گے۔ ایسی حالت میں پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر جدید معیار پر سیاسی شعور پیدا کیا جائے ۔ سیاسی شعور سے پہلے سیاسی اقدام کرنا، سیاسی خودکشی کے سوا اور کچھ نہیں۔ خبرنامہ، الرسالہ مشن کی ڈائرکٹری ہے۔ وہ الرسالہ مشن کی دعوتی سرگرمیوں کا ریکارڈ بھی ہے اور اسی کے ساتھ مشن سے وابستہ افراد کے لیے انسپریشن کا ماخذ بھی۔ اس لیے مشن کے تمام ساتھیوں سے گزارش ہے کہ وہ اہم دعوتی سرگرمیوں کا ریکارڈ ضروری تفصیل کے ساتھ روانہ فرمائیں، تاکہ ان کو خبر نامہ کے تحت شامل کیا جاسکے۔ یہ ریکارڈ مضمون کے بجائے صرف تعینات کی زبان میں ہو۔ مثلاً تاریخ، مقام، اہم شخصیت کے ساتھ انٹریکشن کی صورت میں اس کا نام، دعوتی کام کی نوعیت کی وضاحت، کسی ادارے میں پروگرام کی صورت میں اس کا نام اور پروگرام کا موضوع، وغیرہ۔ تفصیلات بذریعہ ڈاک الرسالہ کے پتے پر یا ای میل پر بھیجیں: znadwi@yahoo.com
‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues