Al-Risala · January 2010 · page 36

It is a peaceful translation of the Quran.

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۳۶

وہ کامیابی حاصل کی جس کو قرآن میں ’’فتحِ مبین‘‘ کہا گیا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ناگنگ معاہدہ فتحِ مبین (الففتح: 1) کے دروازے کو کھولنے کے ہم معنی ہے، نہ کہ مفروضہ طور پر دشمن کے سامنے سرینڈر کرنے کے ہم معنی۔ میری بات سن کر وہ خاموش ہوگئے۔

کنسٹرکشن کیمپ سے میں بذریعہ کار ہوٹل (Sheraton) لوٹ آیا۔ لیکن دوسرے شرکاء کا نفرنس کو کمیونٹی کی طرف سے آسوز (Austhwitz) کے ایک ریسٹورنٹ میں سادہ رسیپشن دیا گیا۔ اس میں معروف لنچ (lunch) کے بجائے لوگوں کو صرف جوس اور فروٹ (snack) دیا گیا تھا۔ ایسا انھوں نے رمضان کے احترام میں کیا تھا۔ یہ گویا ترک طعام کے بجائے تقلیلِ طعام کا ایک مظاہرہ تھا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہٹلر کے عروج و زوال میں بہت بڑا سبق ہے۔ ہٹلر کی کتاب میری جدوجہد (My Struggle) پڑھے تو معلوم ہوگا کہ وہ اپنے سیاسی حوصلے میں سرشار ہے۔ اس کو یقین ہے کہ وہ پورے یورپ میں نازی ازم (Nazism) کو غالب کر دے گا۔ اسی تصور کے تحت اس نے 1939 میں دوسری عالمی جنگ چھیڑ دی، لیکن اس کا انجام صرف یہ ہوا کہ جرمنی تباہ ہو گیا اور خود ہٹلر نے ایک بنکر (bunker) کے اندر خودکشی کر لی۔ یہی انجام اس قسم کے دوسرے لوگوں کا بار بار ہوا ہے۔ مثلاً سکندرِ اعظم، چنگیز خاں، نادر خاں، نپولین، اسٹالن، وغیرہ۔ جب کسی آدمی کو بڑی سیاسی طاقت مل جائے تو وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں سب کچھ کر سکتا ہوں ۔ اس قسم کے لوگ اپنی طاقت کا غلط اندازہ کرکے اکثر بڑی بڑی سیاسی چھلانگ لگاتے ہیں جس کا نتیجہ ہمیشہ منفی صورت میں نکلتا ہے۔ ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ تاریخ کا ایک عجیب المیہ ہے کہ لوگ ہمیشہ ادارہ (institution) کو اہمیت دیتے ہیں، نہ کہ فرد (individual) کو، حالاں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام بڑے بڑے کام افراد نے انجام دئیے ہیں، نہ کہ کسی ادارے نے۔

اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کسی بڑے کام کے لیے بہت بڑے محرک (incentive) کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دراصل بڑا محرک ہے جو کسی بڑے کام کا سبب بنتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page