Al-Risala · January 2010 · page 37

It is a peaceful translation of the Quran.

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۳۷

اور یہ ایک حقیقت ہے کہ بڑا محرک ایک فرد کے دماغ میں پیدا ہوتا ہے، نہ کہ کسی ادارے کے مجموعی دماغ میں۔ چناں چہ کہا جاتا ہے کہ کوئی بڑا آرٹ ہمیشہ انفرادی دماغ (individual mind) نے تخلیق کیا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کئی لوگوں کے مجموعی دماغ (collective mind) نے کسی بڑے آرٹ کی تخلیق کی ہو۔

سوییت یونین میں بعد کے زمانے میں جب کہ اُن کے یہاں کوئی بڑا لیڈر موجود نہ رہا تو ان کے یہاں ایک نیا تصور پیدا ہوا جس کو وہ لوگ اجتماعی قیادت (collective leadership) کہتے تھے۔ لیکن یہ’’اجتماعی قیادت‘‘سوییت یونین کے زوال کو بچانہ سکی۔ سوییت یونین کا عظیم ادارہ اب بھی موجود تھا، لیکن لینن (وفات: 1924) اور اسٹالن (وفات: 1953) جیسا کوئی فرد نہ ہونے کی وجہ سے ظاہری اعتبار سے بڑا سیاسی ادارہ ہونے کے باوجود سوییت یونین منہدم ہو کر رہ گیا۔ 8 ستمبر 2009 کی دوپہر کو ہم لوگ آشوز (Auschwitz) سے لوٹ کر اپنی قیام گاہ پر واپس آگئے۔ آج شام کو کانفرنس کا آخری پروگرام تھا۔ یہ پروگرام بہت بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔ اس کو دعاء امن (prayer for peace) کہا جاتا ہے۔

اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر مذہب کے لوگ مختلف مقامات پر اکٹھا ہو کر اپنے مذہب کے مطابق، عبادت کرتے ہیں۔ وہاں وہ امن کی دعاء کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہ تمام لوگ یکجا ہو کر جلوس کی شکل میں چلتے ہیں۔ سڑک کے دونوں طرف مقامی لوگ بڑی تعداد میں استقبال کے لیے کھڑے رہتے ہیں، پھر یہ قافلہ چلتا ہوا ایک مقام تک پہنچتا ہے جہاں بہت بڑا اسٹیج بنا ہوا ہوتا ہے۔ یہاں کانفرنس کے لوگ بلند اسٹیج پر بنی ہوئی مخصوص نشستوں پر بیٹھتے ہیں۔ یہاں امن کے موضوع پر تقریریں ہوتی ہیں، امن کی مشعل جلائی جاتی ہے، امن کے ڈیکلریشن پر دستخط کئے جاتے ہیں، وغیرہ۔ آخر میں پیس پیس (peace, peace) کہتے ہوئے سب لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔

کانفرنس کا یہ آخری اجلاس (final ceremony) جس مقام پر ہوا، اس کو مارکیٹ اسکوائرائر (Market Square) کہتے ہیں۔ یہ ایک وسیع اور کشادہ جگہ ہے۔ یہاں چاروں طرف بڑے بڑے چرچ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page