It is a peaceful translation of the Quran.
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۳۸
(Cathedral) اور بڑی بڑی عمارتیں ہیں۔ یہاں لوگ بہت بڑی تعداد میں اکٹھا ہوئے تھے۔ میرے ساتھیوں نے یہاں قرآن کا انگریزی ترجمہ بڑے پیمانے پر لوگوں کو دیا۔ آخری اجلاس کے موقع پر جن لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا، ان میں سے ایک مسٹر یوشع (Joshua P. Du Bois) تھے۔ وہ صدر امریکا براک اوباما کے خصوصی معاون ہیں۔ میرے ساتھیوں نے مسٹر یوشع کو قرآن کے انگریزی ترجمے کی مزید کاپیاں دیتے ہوئے کہا کہ براہ کرم، اس کو آپ صدر امریکا اور وائٹ ہاؤس کے دیگر افراد تک پہنچانے میں ہمارا تعاون فرمائیں۔ مسٹر یوشع نے خوشی کے ساتھ اس درخواست کو قبول کیا اور کہا کہ ہم ضرور اس کو صدر اوباما تک پہنچا دیں گے۔ مسٹر یوشع نے اپنا جو وزٹنگ کارڈ دیا، اس میں ان کے بارے میں یہ الفاظ درج تھے: Special Assistant to the President Obama and Executive Director, White House Office of Faith-Based and Neighborhood Partnerships, The White House, Washington, D.C. اس اجلاس کے بعد کانفرنس کی رسمی کارروائی ختم ہو چکی تھی۔ آج شام کے کھانے کا انتظام کریکو کے ایک تاریخی مقام (Gardens of the Archeological Museum) پر کیا گیا تھا۔ اس کا جو دعوت نامہ ہم لوگوں کو ملا، اس کے اوپر یہ الفاظ درج تھے:
The Marshal of the Voivodship of Matopolska is privileged to invite you to a dinner. یہاں میوزیم کے خوب صورت پارک کے اندر خاص انداز سے سفید کپڑوں کے ذریعے بنایا ہوا ایک بہت بڑا ہال تیار کیا گیا تھا۔ اسی ہال میں ہم لوگوں کے کھانے کا انتظام تھا۔ اس موقع پر ہمارے ساتھیوں نے ایک میز پر قرآن کے انگریزی ترجمے کی کاپیاں رکھ دیں۔ وہ حاضرین سے مل کر انھیں قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دے رہے تھے۔
عجیب بات ہے کہ اس کانفرنس میں جو عرب آئے ہوئے تھے، انھوں نے اس دعوتی کام سے کوئی دل چسپی نہیں لی، بلکہ کانفرنس کے دوران انھوں نے ہمارے ساتھیوں کی اس دعوتی جد و جہد کی حوصلہ شکنی کی۔ ان لوگوں سے بات کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ ان کے اندر دعوت الی اللہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues