Al-Risala · August 2010 · page 24

فتوٰی اور فتوٰی ایکٹوزم

الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۲۴

تجربہ بتاتا ہے کہ یہ طریقہ صرف منفی نتیجہ پیدا کر رہا ہے، اور جو طریقہ منفی نتیجہ پیدا کرے، وہ بلاشبہ اس قابل ہے کہ اس کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے۔

نصیحت اور تذکیر (admonition) کے اس طریقے کو آج کل کی زبان میں ایجوکیشنل ایکٹوزم (educational activism) کہا جا سکتا ہے، یعنی تعلیم اور تربیت کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کرنا، لوگوں کے ذہن کو بدلنے کی کوشش کرنا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اصلاحِ معاشرہ کے بارے میں اسلام کا اصول ایجوکیشنل ایکٹوزم پر مبنی ہے نہ کہ فتویٰ ایکٹوزم پر۔ اس معاملے میں ایک رہنما مثال وہ ہے جس کا ذکر صحیح بخاری میں آیا ہے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اسلام کے ابتدائی زمانے میں قرآن کی جو آیتیں اتریں، ان میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا، تا کہ لوگوں کے دلوں میں اسلام کے بارے میں نرم گوشہ پیدا ہو اور لوگوں کے اندر ذہنی آمادگی آجائے۔ اس طرح جب قبولیت (acceptance) کی استعداد پیدا ہوگئی تو اس کے بعد قرآن میں اترا کہ زنا چھوڑ دو، اور شراب چھوڑ دو۔ ایسا حکم اگر پہلے اترتا تو لوگ اس کی تعمیل نہ کرتے، بلکہ وہ کہتے کہ ہم تو زنا نہ چھوڑیں گے، ہم تو شراب نہ چھوڑیں گے (لا ندع الزنا أبداً، ولا ندع الخمر أبداً)۔

اس سے معلوم ہوا کہ عمومی اصلاح کا کام فتویٰ یا حکم جاری کرنے سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کام کے لیے سب سے پہلے لوگوں کے اندر قبولیت کی استعداد پیدا کی جاتی ہے، اس کے بعد ان کو حکم دیا جاتا ہے۔ استعداد پیدا کیے بغیر حکم دینا، کسی بھی درجے میں مسئلے کا کوئی حل نہیں۔ Kahaniyan Quran Se سے کہانیان قرآن Zee Salaam Saturday 8.30 pm, Sunday 9.30 am Monday 4.00 pm, Friday 3.00 am (Zee Salaam is available on Dish TV channel no. 786)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues

Printed page