Al-Risala · August 2010 · page 25

مسلم ملٹنسی کا مسئلہ

الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۲۵

مسلم ملٹنسی کا مسئلہ

پہلی عالمی جنگ (world war I) کے بعد روس میں کمیونسٹ رول (communism rule) قائم ہوا۔ اس رول کا نشانہ اوّل دن سے یہ تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کیا جائے ۔ اس کے نتیجے میں امریکا میں عام طور پر یہ ذہن بن گیا کہ ۔ کمیونسزم، امریکا کا دشمن نمبر ایک ہے: Communism is the enemy no. 1 of America. امریکا نے اس چیلنج کا مقابلہ اتنی کامیابی کے ساتھ کیا کہ 1991 میں کمیونسٹ ایمپائر کا خاتمہ ہوگیا ۔ دوسری طرف ، مسلمانوں کی ملٹنٹ (militant) تنظیمیں، القاعدة وغیرہ، نے امریکا کو اسلام کا دشمن نمبر ایک بتایا اور امریکا کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کردی، جس کی ایک نمایاں مثال 11 ستمبر 2001 کا واقعہ ہے جو نیویارک میں پیش آیا۔ امریکا نے مسلم ملٹنسی (militancy) کے خلاف زبردست فوجی کارروائی کی، حتیٰ کہ اس کارروائی میں اُس نے 5 ٹریلین ڈالر خرچ کردئے، لیکن مسلم ملٹنسی کے محاذ پر امریکا کو مطلوبہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔

اس فرق کا سبب کیا ہے، اس فرق کا سبب یہ ہے کہ امریکا نے کمیونسٹ چیلنج کا مقابلہ فکری سطح پر کیا۔ اُس نے مختلف زبانوں میں کمیونسزم کے خلاف ہزاروں کتابیں چھپوا کر ساری دنیا میں پھیلا دیں ۔ مثال کے طور پر ملوون جیلاس (Milovan Djilas) کی کتاب نیوکلاس (The New Class) ۔ یہ کتاب نظریاتی اعتبار سے اتنی طاقت ورتھی کہ اس کے بارے میں مشہور امریکی میگزین ریڈرس ڈائجسٹ میں تبصرہ چھپا تو اس کا عنوان یہ تھا:

The Book that is Shaking the Communist World.

کمیونسٹ چیلنج کے خلاف امریکا کی یہ فکری لڑائی پوری طرح کامیاب رہی، لیکن امریکا نے اپنے اس تجربے کو مسلم ملٹنسی کے معاملے میں استعمال نہیں کیا۔ یہاں اس نے برعکس طور پر فوجی طاقت کے ذریعے مسلم ملٹنسی کو مٹانے کی کوشش کی، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues

Printed page