The Book that is Shaking the Communist World.
الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۲۶
حقیقت یہ ہے کہ مسلم عسکری گن ورسز گن (gun vs gun) کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ وہ گن ورسز آئیڈیالوجی (gun vs ideology) کا مسئلہ ہے۔ مسلم عسکری ایک معلوم آئیڈیالوجی پر کھڑی ہے، اس لیے مسلم عسکری کو ختم کرنے کے لیے اس آئیڈیالوجی کو ختم کرنا ضروری ہے۔ یہ آئیڈیالوجی کیا ہے۔ یہ دراصل اسلام کی سیاسی تعبیر (political interpretation) ہے۔ اسلام کی سیاسی تعبیر مکمل طور پر ایک سیاسی بدعت ہے۔ موجودہ زمانے کے کچھ مسلم رہنماؤں نے اپنی تفسیر قرآن اور اپنے لٹریچر میں اسلام کی سیاسی تعبیر پیش کی۔ یہ سیاسی تعبیر موجودہ زمانے کے مسلم مائنڈ کے لیے بہت موافق تھی، اس لیے انھوں نے اس کو اختیار کر لیا اور جہاد کے نام پر وہ اپنے متشددانہ عمل کو اس نئی سیاسی تعبیر کے ذریعے درست ثابت کرنے لگے۔ مسلم عسکری کا جواب پر امن نظریاتی سطح پر دینا پوری طرح ممکن ہے، مسلمان اپنی موجودہ عسکری کو اسلام کے نام پر چلا رہے ہیں۔ اس طرح وہ خود ایک ایسا معیار (criterion) دے دیتے ہیں جس کو استعمال کرکے اُس کو رد کیا جاسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ عسکری، اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں، مکمل طور پر ایک غیر مبرّر عسکری (unjustified militancy) ہے۔ اسلام میں عسکری یا جنگ کوئی ایجابی عمل نہیں، اسلام میں صرف دفاع کے وقت اضطراری طور پر جنگی طریقے کو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ دوسری بات یہ کہ اسلام میں جنگ استثنائی طور پر صرف ایک باقاعدہ حکومت کے لیے جائز ہے، غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کے لیے صرف دو میں سے ایک آپشن ہے— یا تو وہ خاموش رہیں یا خالص پرامن ذرائع سے اپنی بات لوگوں تک پہنچائیں۔ اِس اصول کی بنا پر گوریلا واریا پراکسی واریا اور کوئی غیر حکومتی وار اسلام میں جائز نہیں۔
اسلام ایک مشن ہے۔ اسلام کا منشا یہ ہے کہ اس کی مذہبی اور روحانی اور اخلاقی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچایا جائے ۔ یہ ایک خالص پرامن مشن ہے، اس میں کسی بھی مرحلے پر ہتھیار کا استعمال جائز نہیں۔ یہ بھی اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے کہ کوئی گروہ عدل (justice) کے حصول کے نام پر کسی کے خلاف جنگ چھیڑ دے۔ اسلام میں عدل کا حصول صرف پرامن کوشش کے ذریعے ہوتا ہے، نہ کہ جنگ اور تشدد کے ذریعے۔ اسلام پورے معنوں میں امن کا مذہب ہے، وہ کسی بھی اعتبار سے جنگ کا مذہب نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues