خود کش بم باری
الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۲۷
خود کش بم باری
خودکش بم باری (suicide bombing) فلسطین میں عربوں نے اسرائیل کے خلاف شروع کی۔ اُس وقت کچھ علماء نے اس کو جائز قرار دیا اور کچھ علماء اس پر خاموش رہے۔ بروقت کسی نے اس کے حرام ہونے کا اعلان نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ برائی پھیلتی رہی، اور اب دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمان خودکش بم باری کے واقعات کر رہے ہیں۔ حالاں کہ خودکشی اسلام میں سراسر حرام ہے، کوئی بھی عذر اس کو جائز قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔ خودکش بم باری کو جائز قرار دینے کے لیے جو دلیلیں دی جاتی ہیں، اُن میں سے ایک مشہور دلیل "الانغماس فی العدو" کی ہے، یعنی دشمن کی صفوں میں گھس پڑنا: To plunge into enemies. "انغماس فی العدو" کے حق میں ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق کے زمانہ خلافت میں ایک جنگ پیش آئی۔ یہ جنگ مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف تھی۔ اس جنگ میں ایک صحابی براء بن مالک خزرجی شریک تھے۔ وہ ایک غیر معمولی بہادر آدمی تھے۔ ایک موقع پر وہ تنہا دشمن کی فوج کے اندر داخل ہو گئے اور اپنا کام پورا کر کے محفوظ واپس آگئے (تفصیل کے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب "مسائل اجتہاد"، صفحہ 105)۔
اس واقعے سے خودکش بم باری کا جواز ہر گز ثابت نہیں ہوتا۔ انغماس فی العدو کا مطلب ہے خطرہ مول لے کر دشمن کی صفوں میں گھس جانا۔ اور خودکش بم باری کا مطلب ہے، اپنے آپ کو ہلاک کر کے مفروضہ دشمن یا اس کی قوم کے افراد کو جانی اور مالی نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا۔ اس قسم کا کمزور استدلال صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو نہ جانتے ہوں، جب کہ حقیقی استدلال کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اس اصول کو پوری طرح جانے۔ اس اصول سے بے خبری کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی بطور خود ایک دلیل پیش کر دے گا، حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف الفاظ کا مجموعہ ہوگا، نہ کوئی واقعی دلیل۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues