مسلم پرسنل لا کا مسئلہ
الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۲۸
مسلم پرسنل لا کا مسئلہ
مسلم پرسنل لا (Muslim Personal Law) کا لفظ بظاہر ایک عمومی لفظ ہے، لیکن عملاً اُس سے مراد زیادہ تر نکاح و طلاق کے قوانین ہیں۔ اسلامی شریعت کی رو سے نکاح و طلاق کے قوانین مقدس قوانین کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ ناقابلِ تغیر شرعی قوانین پر مبنی ہیں۔ اس معاملے میں شریعت کے جو قوانین ہیں، وہ ابدی ہیں اور ہر معاشرے اور ہر زمانے میں یکساں طور پر قابلِ انطباق ہیں۔
نکاح و طلاق کے بارے میں شرعی قوانین کی یہی خصوصی نوعیت اس بات میں مانع ہے کہ اُن کو سیکولر حکومت کے عدالتی نظام کی ماتحتی میں دے دیا جائے۔ سیکولر عدالتی نظام کی بنیاد وضعی قوانین (subject to change) (man-made laws) پر ہوتی ہے، اور وضعی قوانین ہمیشہ تبدیلی کا موضوع ہوتے ہیں۔ اُن کو کسی بھی وقت ممبران اسمبلی کی کثرتِ راۓ سے بدلا جا سکتا ہے۔ اس بنا پر مسلمانوں کے نکاح و طلاق کے مسئلے کو وضعی قوانین کے تابع کرنا اصولاً درست نہیں۔ موجودہ سیکولر دور سے پہلے اس مسئلے نے کوئی نزاکت اختیار نہیں کی تھی۔ جن ملکوں میں مسلم حکومتیں قائم تھیں، وہاں ہمیشہ قاضی کا عہدہ ہوا کرتا تھا۔ یہ قاضی مسلمانوں کے نکاح و طلاق کے مسائل کا فیصلہ شرعی قوانین کی روشنی میں دیتے تھے۔ یہ نظام اب بھی کسی حد تک مسلم ملکوں میں جاری ہے۔
آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان ہندوستان میں آئے۔ اُس وقت یہاں ہندو راجاؤں کی حکومت تھی۔ مسلمانوں نے ہندو راجاؤں سے درخواست کی کہ ایسا نظام بنایا جائے جس کے تحت مسلمان اپنے عائلی مسائل کا فیصلہ شرعی قانون کی روشنی میں حاصل کر سکیں۔ راجاؤں نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے مسلم قاضی کا تقرر کیا، جس کو اُس زمانے میں ’’ہنرمین‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ لفظ غالباً ’’ہنر مند‘‘ کی بدلی ہوئی شکل ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues