مسلم پرسنل لا کا مسئلہ
الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۲۹
ہندوستان میں جب مسلم سلطنتیں قائم ہوئیں تو انھوں نے یہاں مسلم قاضی مقرر کئے ۔ یہ قاضی ، مسلمانوں کے عائلی مسائل کا فیصلہ شریعت کی روشنی میں دیتے تھے۔ یہ سلسلہ مغل عہد کے خاتمہ اور برٹش عہد کے آغاز تک جاری رہا۔
ہندوستان میں برٹش دورِ حکومت باقاعدہ طور پر انیسویں صدی عیسوی کے وسط میں شروع ہوا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے قاضی کا عہدہ ختم ہوگیا۔ تاہم مسلم رہنماؤں کے مطالبے پر برٹش حکومت نے ایک قانون ’’محمدن لا‘‘ کے نام سے پاس کیا۔ یہ محمدن لا زیادہ تر حنفی فقہ کی روشنی میں تیار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ مسلمانوں کے عائلی مسائل کا فیصلہ محمدن لا کے تحت کیا جانے لگا۔ اس کے لیے علاحدہ قاضی نہیں ہوتے تھے، بلکہ عام ملکی عدالتیں ہی یہ کام انجام دیتی تھیں ۔
1947 میں جب ہندوستان آزاد ہوا تو یہ نظام بھی عملاً معطل ہوگیا۔ اُس وقت مولانا ابوالکلام آزاد (وفات: 1958) حکومت ہند میں وزیرِ تعلیم تھے۔ مولانا آزاد کی کوششوں سے ، دہلی میں ایک ’’اسپیشل جج ‘‘ کا تقرر کیا گیا۔ یہ اسپیشل جج با اختیار رنج تھا اور وہ مسلمانوں کے نکاح وطلاق کے معاملات کا فیصلہ شریعت کی روشنی میں کرتا تھا۔ آزادی کے بعد پہلے اسپیشل جج کے طور پر سید عزیز شفیع کا تقرر ہوا۔ ان کی زندگی تک یہ عہدہ جاری رہا۔ لیکن 1979 میں ان کی موت کے بعد اس کا بھی خاتمہ ہوگیا۔
1947 کے بعد اس سلسلے میں مسلمانوں کے مختلف غیر سرکاری ادارے قائم ہوئے ۔ ان اداروں کو دارالافتاء اور دار القضاء کہا جاتا ہے۔ انھیں میں سے ایک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ بھی ہے۔ اس کا قیام 1973 میں عمل میں آیا۔ لیکن یہ انتظامات اصل ضرورت کی نسبت سے ناکافی تھے، چناں چہ وہ مطلوب شرعی ضرورت کو پورا نہ کرسکے۔ کیوں کہ اُن میں سے کسی ادارے کا فیصلہ قانونی اعتبار سے، بائنڈنگ فیصلے کی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔
یہ مسئلہ بلاشبہ ایک نازک شرعی مسئلہ ہے۔ اُس کا حقیقی حل تلاش کرنا علماء کی ذمے داری ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues