مسلم پرسنل لا کا مسئلہ
الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۳۰
احتجاج اور مطالبات کی نوعیت کی تحریکیں کسی بھی درجے میں اس مسئلے کا حل نہیں۔ راقم الحروف کے نزدیک ، سیکولر ہندوستان کے پس منظر میں ، اس مسئلے کے حل کی دو ممکن صورتیں ہیں : 1 - اس مسئلے کا پہلا حل یہ ہے کہ ملک میں جامع نوعیت کا ایک دار القضاء قائم کیا جائے ۔ اس دار القضاء کا جزئی تجربہ ریاست بہار میں کیا گیا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ دار القضاء کا تصور مکمل طور پر ایک رضا کارانہ تصور ہے۔ دار القضاء کی کامیابی کا انحصار اس پر ہے کہ مسلمان اُس کے فیصلے کو لازماً قبول کر لیں ، خواہ وہ اُن کے موافق ہو ، یا اُن کے خلاف ۔ اس نوعیت کا دار القضاء صرف اُس وقت عملی صورت اختیار کر سکتا ہے ، جب کہ ہندوستان کے مسلمانوں میں اتنی بیداری لائی جاچکی ہو کہ وہ خود اپنے اختیار سے ، دار القضاء کے فیصلے کو برضا ورغبت قبول کر لیں ۔ مگر تادم تحریر (17 مارچ 2010) مسلمانوں میں یہ مزاج پیدا نہیں ہوا ، اس لیے عملاً دار القضاء کا تصور صرف محدود طور پر قابل عمل ہوسکتا ہے ، وہ عمومی طور پر مسلمانوں کے مسئلے کا حل نہیں۔
2 - دوسری صورت یہ ہے کہ برٹش دور کی طرح ، دوبارہ مسلمانوں کے نکاح وطلاق کے مسئلے کو شرعی بنیاد پر حل کرنے کے لیے ہندوستانی پارلیامنٹ سے ایک باقاعدہ ایکٹ پاس کرایا جائے ، اور تمام ریاستی اسمبلیاں اس ایکٹ کی تصدیق کر دیں ۔ موجودہ مسئلے کا یہی مؤثر قانونی حل ہے۔ جہاں تک میرا اندازہ ہے ، ہندوستان میں یہ قانون اُسی طرح بن سکتا تھا ، جس طرح وہ برٹش دور میں بنا تھا ، مگر ہندوستان کے علماء نے اس معاملے میں غیر حقیقت پسندانہ موقف اختیار کیا ۔ انھوں نے تحفظ شریعت کے نام پر ہندوستان کے سیکولر نظام کے خلاف پُر شور احتجاجی تحریکیں شروع کر دیں ۔
یہ طریقہ صرف حالات کو بگاڑنے کا سبب بنا۔ اگر ہندوستانی علماء باقاعدہ طور پر یہ کوشش کرتے کہ ہندوستان کی پارلیامنٹ اس معاملے میں ماڈرن لا کے پیٹرن پر زیادہ بہتر ایک قانون وضع کردے ، تو یقینی طور پر یہاں اس قسم کا قانون بن سکتا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues