It is a peaceful translation of the Quran.
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۳۹
کا کوئی جذبہ موجود نہیں۔ اسلام کے نام پر جس چیز سے وہ باخبر ہیں، وہ صرف اُن کا قومی فخر ہے، اِس کے سوا کچھ اور نہیں۔
یہاں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی، اُن میں سے ایک مزکیتھرین تھیں۔ وہ سویڈن کے شہر اپسالا (Uppsala) کے چرچ کی نمائندہ تھیں۔ میرے ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی نے اُن سے سویڈش (Swedish) زبان میں بات کی اور اُن کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔ وہ بہت خوش ہوئیں۔ مولانا محمد ذکوان ندوی اِس سے پہلے سویڈن (یورپ) کے دار السلطنت اسٹاک ہوم (Stockholm) میں چار سال تک رہ چکے ہیں۔ مزکیتھرین نے کہا کہ مجھ کو اِس ترجمہ قرآن کی ایک مزید کاپی چاہیے۔ میں اِسے اپنے ساتھی کو مطالعے کے لیے دوں گی۔ مزکیتھرین کے کارڈ پر اُن کے متعلق یہ الفاظ درج تھے:
Ann-Cathrin Jarl PhD, Reverend, Chaplain to the Archbishop وارسا کے ایک ڈیلی نیوز پیپر (Rzeczpospolita) کی نمائندہ مزایوا (Ewa Czaczkowska) نے کانفرنس سے متعلق میرے تاثرات پوچھے ۔ میں نے حسبِ ذیل الفاظ میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا:
According to my experience, the International meeting at Kracow organized by the community of St. Egidio, is very important. I see it in term of a process. Karacow meeting is a part of a continued process. It is like reviving the spirit of Assisi. The Community of St. Egidio is trying to mobilize people on the spirit of peace. Such mibilization itself is very important. I have participated in some meeting of this kind. I have found that it always yields positive result, specially in terms of peace and brotherhood. I hope that Kracow meeting will surely boost this peace process. پولینڈ نسبتاً یورپ کا ایک پس ماندہ ملک ہے، لیکن یہاں کا انفراسٹرکچر (infrastructure) تقریباً اُسی معیار کا نظر آیا جو یورپ کے دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً سوئزرلینڈ اور
‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues