وقت کی اہمیت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۳۷
سوال وجواب سوال دو سوالات کے جواب مطلوب ہیں۔ ایک یہ کہ ماہ نامہ الرسالہ، جون 2007 میں آپ نے اپنے ایک مضمون میں’’مسیحی ماڈل کی واپسی‘‘ کا ذکر کیا تھا۔ اس سے آپ کی مراد کیا ہے۔ دوسرے یہ کہ آپ نے اپنی تحریروں میں کئی مقامات پر اعلیٰ بصیرت اور پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کی باتیں لکھی ہیں۔ برائے کرم مثال کے ذریعے اس کو واضح فرمائیں (عبدالباسط عمری، دوحہ، قطر) جواب 1 - قیامت سے پہلے مسیح کی آمد ثانی کے بارے میں جو روایتیں آئی ہیں، اُس سے مراد غالباً مسیحی ماڈل کی آمد ثانی ہے، نہ کہ جسمانی معنوں میں پیغمبر مسیح کی آمد ثانی۔ یہ مسیحی ماڈل قرآن میں بھی مذکور ہے اور انجیل میں بھی اس کا ذکر آیا ہے۔ یہ مسیحی ماڈل، قرآن اور انجیل دونوں کی تصریحات کے مطابق، یہ ہے کہ یک طرفہ صبر کے ذریعہ غیر سیاسی انداز میں پرامن طور پر دعوت الی اللہ کا کام کرنا۔ یہی مسیحی ماڈل ہے اور اِس کو تاریخ میں دوبارہ واپس آنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسیحی ماڈل وہی ہے جس کو مکی ماڈل کہا جاتا ہے۔ مسیحی ماڈل کی واپسی دراصل خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی ماڈل کی واپسی ہے۔ مگر بعد کے زمانے میں پیغمبر اسلام کے حوالے سے یہ ماڈل مسلمانوں کے لیے قابل دریافت نہیں رہے گا۔ غالباً اسی لیے آپ نے اس کی واپسی کو مسیح کی واپسی سے تعبیر کیا۔ مسیحی ماڈل دراصل خود پیغمبر اسلام کی جامع زندگی کا ایک پہلو ہے، نہ کہ اس سے الگ یا اُس سے مغائر کوئی پہلو۔
حدیث اور سیرت کی کتابوں میں اور خود قرآن میں یہ مکی ماڈل واضح طور پر موجود ہے۔ لیکن بعد کو یہ ہوا کہ مسلم علماء نے بطور خود یہ سمجھ لیا کہ ہجرت کے بعد اب مکی ماڈل منسوخ ہو چکا ہے اور اب صرف مدنی ماڈل کی پیروی مسلمانوں سے مطلوب ہے۔ بعد کے زمانے میں مسلم علماء نے جو کتابیں لکھیں، وہ عام طور پر اسی مفروضہ کے تحت لکھی گئیں، یہاں تک کہ شعوری یا غیر شعوری
‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues