وقت کی اہمیت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۳۸
طور پر یہ سمجھ لیا گیا کہ مدنی ماڈل ہی اب مطلوب معیاری ماڈل ہے۔ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کو جس ماڈل کی پیروی کرنا ہے، وہ صرف مدنی ماڈل ہے، بالفاظ دیگر حاکمانہ ماڈل۔ لمبی تاریخی روایت کے نتیجے میں اب یہ صورت حال پیدا ہو چکی ہے کہ مسلم ذہن پیغمبر اسلام کے حوالے سے اس ماڈل کو سمجھ نہیں پاتے، اس لیے اس کو مسیحی ماڈل کے حوالے سے مسلمانوں کے سامنے لایا گیا۔ کیوں کہ بعد کے زمانے میں کی ماڈل مسلمانوں کے ذہن سے اوجھل ہو گیا اور صرف مدنی ماڈل ان کے زندہ حافظے میں باقی رہا، جب کہ مسیحی ماڈل پر دوسرا مرحلہ پیش نہیں آیا۔ مسیح کے یہاں اول بھی مکی ماڈل تھا اور آخر بھی مکی ماڈل۔
2- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانہ میں حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا: لا فضل لعربی علی عجمی ولا لأحمر علی أسود (کسی عربی کو کسی عجمی کے اوپر کوئی فضیلت نہیں، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر کوئی فضیلت نہیں) ان الفاظ میں بظاہر مطلق مساوات کا اعلان تھا، لیکن آپ کی وفات کے بعد جب خلافت کا مسئلہ پیدا ہوا تو اس کو الائمۃ من قریش (مسند احمد، رقم الحديث: 12657) کی بنیاد پر حل کیا گیا۔ یہ فعل واضح طور پر آئیڈیل مساوات کے خلاف تھا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: أمرهم شورى بينهم (اہلِ ایمان کے معاملات اجتماعی مشورے سے طے ہوتے ہیں) الفاظ کے اعتبار سے بظاہر یہ ایک مطلق اصول ہے، لیکن خلیفہ اول حضرت ابو بکر نے خلیفہ ثانی حضرت عمر کے تقرر میں اس تعلیم کے خلاف عمل کیا۔ انھوں نے اپنے بعد خلیفہ ثانی کے لئے نام زدگی (nomination) کا طریقہ اختیار کیا۔ آپ نے رائے عامہ کے بغیر بطور خود حضرت عمر کی خلافت کا اعلان کر دیا۔ یہ واقعہ واضح طور پر مذکورہ قرآنی اصول کے خلاف تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ میں خلافت کے سوال پر مہاجرین اور انصار کے درمیان اختلاف ہوا۔ انصار کا یہ کہنا تھا کہ: منا أمير ومنكم أمير (ایک امیر مہاجرین میں سے اور ایک امیر انصار میں سے)۔ بحث کے بعد آخر کار یہ طے ہوا کہ مہاجرین میں سے امیر ہوں اور انصار میں سے وزیر (نحن الأمراء وأنتم الوزراء)۔ لیکن اس پر عمل نہ ہو سکا اور حضرت عمر فاروق
‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues