Al-Risala · August 2010 · page 39

وقت کی اہمیت

الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۳۹

نے اپنے آخری زمانے میں کہا کہ ہم نے انصار سے وعدہ کیا تھا کہ ہم خلافت کے کام میں ان کو وزیر بنائیں گے، لیکن ہم ایسا نہ کر سکے ( واللہ ما وفينا لهم كما عاهدناهم عليه - مسند البزار ، رقم الحديث: 291 )۔

اسلام کے دور اول کی تاریخ میں اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں ۔ یہ واقعات بظاہر یہ بتاتے ہیں کہ اسلام میں اصول اور عمل کے درمیان تضاد ہے، مگر یہ بات درست نہیں ۔ یہ فرق خود ایک اور مستقل اصول کے تحت پیش آیا اصول کا تعین ہمیشہ معیار (norm) کی روشنی میں ہوتا ہے، لیکن جب عملی بندوبست (practical settlement) کا معاملہ ہو تو اُس وقت ایک اور اصول اختیار کیا جاتا ہے۔ اُس وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ عملی اعتبار سے کیا چیز ممکن ہے اور کیا چیز ممکن نہیں۔ اصول کا تعین ایک مجرد (abstract) معاملہ ہے، اِس لئے اصول کے تعین کے وقت خالص نظری پہلو کا اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن عملی بندوبست کا تعلق سماج کی واقعی صورت حال سے ہوتا ہے۔ اِس لئے عملی بندوبست کے وقت ضروری ہوتا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ موجودہ صورت حال کے مطابق کیا چیز ممکن ہے اور کیا چیز ممکن نہیں۔

مذکورہ مثالوں کے درمیان بظاہر جو فرق نظر آتا ہے، وہ اسی اعلیٰ بصیرت کی بنا پر ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کہا جاتا ہے۔ جو لوگ اصولی معیار اور پریکٹیکل وزڈم کے فرق کو نہ جانیں، وہ ذہنی اعتبار سے کنفیوژن (confusion) کا شکار ہو جائیں گے اور وہ عملی اعتبار سے ایسا اقدام کریں گے جو حالات میں مزید خرابی پیدا کرے اور نتیجے کے اعتبار سے کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) بن کر رہ جائے ۔ عملی رویے کا فیصلہ ہمیشہ واقعی صورت حال کی بنا پر کیا جاتا ہے، نہ کہ مجرد اصولی معیار کی بنیاد پر۔

ماہِ رمضان کے موقع پر صومِ رمضان“ کے نام سے ایک بک لٹ تیار کیا گیا ہے۔ اس کو گڈ ورڈ بکس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues

Printed page