It is a peaceful translation of the Quran.
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۴۰
جرمنی، وغیرہ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسیحی یورپ (باستثناء ترکی) ہر جگہ یہ ذہن پایا جاتا ہے کہ انفراسٹرکچر کے مطالعے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا ہے۔ یورپ میں دوسری کئی برائیاں پائی جاتی ہیں، لیکن انفراسٹرکچر کے معاملے میں سب کا ذہن ایک ہے، وہ یہ کہ انفراسٹرکچر کو اعلیٰ معیار پر باقی رکھنا ہے۔ وہاں کا کوئی کنٹریکٹر (contractor) اگر کوئی سڑک بنائے یا تعمیرات کرے تو وہ ایسا کبھی نہیں کرے گا کہ اپنے فائدے کے لیے وہ طے شدہ معیار میں کمی کر دے۔
انڈیا اور پاکستان کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہاں کی سپریم چیز صرف ایک ہے، اور وہ صرف پیسہ (money) ہے۔ یہاں کا انجینئر اور کنٹریکٹر کم تر معیار کی چیزیں بنائے گا، صرف اس لیے کہ اس کی اپنی کمائی میں اضافہ ہو سکے۔
کری کو میں ایک بار ایسا ہوا کہ ہم سڑک پر بذریعہ کار سفر کر رہے تھے۔ درمیان میں ایک جگہ کار تقریباً 15 منٹ تک آہستہ آہستہ چلتی رہتی رہی۔ میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہماری کار کے آگے ایک گھوڑا گاڑی چل رہی ہے۔
اس قسم کی گاڑی یہاں سیاحوں کی تفریح کے لیے چلائی جاتی ہے جس کو جوائے رائیڈ (joy ride) کہا جاتا ہے۔ انڈیا میں اس طرح کے موقع پر کار کا ڈرائیور مسلسل ہارن بجائے گا، لیکن وہاں ایک بار بھی ڈرائیور نے ہارن نہیں بجایا۔ وہ صبر کے ساتھ چلتا رہا، یہاں تک کہ راستہ صاف ہو گیا، پھر اس نے اپنی گاڑی تیز چلائی۔
ہم لوگ پولینڈ میں تین دن تک رہے۔ ہمیں یہاں کی مختلف سڑکوں پر گزرنے کا موقع ملا، لیکن کہیں کوئی شور وغل یا ہارن کی آواز سنائی نہیں دی، کسی مقام پر ایسا نہیں ہوا کہ بھیک ماننے والے لوگ ہماری گاڑی کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں۔ انڈیا میں گانے والے لوگ اس قسم کے گیت گاتے ہیں: مرے دیش کی دھرتی سونا اگلے، اگلے ہیرے موتی لیکن پہلا موقع پاتے ہی وہ اپنے بیٹے اور بیٹی کو یورپ اور امریکا بھیج دیتے ہیں—انڈیا کے سارے بگاڑ کا سبب صرف ایک ہے اور وہ کرپشن (corruption) ہے۔ بظاہر حالات
‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues