Al-Risala · January 2010 · page 41

Belief in God hardwired in our brain

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۴۱

انڈین میں کرپشن کے خاتمے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

ایک عرب عالم سے مجدد اور تجدید دین کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مجدد کون ہے۔ مجدد کوئی پر اسرار لفظ نہیں۔ مجدد در اصل وہ ہے جو بدلے ہوئے حالات میں اسلام کے ریلو نس (relevance) کو دریافت کرے ۔ مثلا موجودہ زمانے میں سیکولرازم اور جمہوریت کے سیاسی نظریات سامنے آئے تو تمام مسلم رہنماؤں نے اس کے خلاف منفی رد عمل کا اظہار کیا، حالاں کہ تجدیدی نقطۂ نظر سے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ وہ سیکولرازم اور جمہوریت کے مقابلے میں اسلام کی مثبت پوزیشن کو دوبارہ دریافت کریں۔

کری کو سے واپسی کا سفر 9 ستمبر 2009 کو شروع ہوا ۔ واپسی کا سفر بھی دوبارہ اُسی راستے سے طے ہوا جس راستے سے ہم لوگ دہلی سے کری کو گئے تھے۔ راستے میں ایک انگریزی اخبار میں ایک خبر پڑھنے کو ملی۔ یہ خبر نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (8 ستمبر 2009) میں بھی چھپی ہے۔ اس خبر کا عنوان یہ تھا خدا کا عقیدہ انسان کے دماغ میں پیوست ہے:

Belief in God hardwired in our brain

خبر میں بتایا گیا تھا کہ انگلینڈ کی برسٹول یونیورسٹی (Bristol University) میں ایک رسرچ ہوئی ہے جس کے نتائج ٹائمس آن لائن (Times Online) میں چھپے ہیں۔ اس رسرچ میں بتایا گیا ہے کہ — خدا کا عقیدہ انسان کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہوتا ہے۔ ارتقاء کے دوران انسان کی اس طرح پروگرامنگ ہوئی ہے کہ وہ خدا پر عقیدہ رکھے، کیوں کہ اس سے اُنھیں زندہ رہنے کا زیادہ بہتر موقع ملتا ہے:

We are born believers. Human beings are programmed by evolution to believe in God, because it gives them a better chance to survival. (p. 17)

اس بیان میں عقیدہ خدا کا فطری ہونا تو رسرچ کا حصہ ہے، لیکن ارتقاء (evolution) والی بات رسرچ کرنے والوں کا اپنا اضافہ ہے — حقیقی مشاہدات میں اسی قسم کے مفروضات کے اضافے سے حیاتیاتی ارتقاء کا پورا نظریہ قائم کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page