Belief in God hardwired in our brain
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۴۲
9 ستمبر 2009 کو پولینڈ سے واپسی تھی۔ ائیرپورٹ جانے کے لیے ہمیں صبح سویرے چار بجے ہوٹل سے نکلنا تھا۔ کمیونٹی کے ایک ممبر نے کہا کہ میں آپ کو اپنی کار سے ائیرپورٹ لے جاؤں گا۔ میں اپنے مزاج کی بنا پر متردد تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ ٹھیک وقت پر ہماری قیام گاہ پر نہ پہنچ سکیں، کیوں کہ وہ کسی دوسری جگہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ لیکن صبح کو جب ہم لوگ ہوٹل کے ریسپشن سے چیک آؤٹ (check-out) کر کے ہوٹل کے گیٹ پر پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ مذکورہ نوجوان وہاں پیشگی طور پر اپنی گاڑی لے کر کھڑے ہوئے ہیں۔ خدمت کرنے والے یہ لوگ کوئی عام لوگ نہ تھے۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور اچھے عہدوں سے تعلق رکھنے والے تھے۔
ہوٹل سے روانہ ہو کر ہم لوگ کریکوائر پورٹ پہنچے۔ کریکوائر پورٹ نسبتاً ایک چھوٹا ائیرپورٹ ہے۔ ہم لوگوں نے فجر کی نماز ائیر پورٹ پر ادا کی۔ ائیرپورٹ کی رسمی کارروائی کے بعد ہم جہاز کی طرف بڑھے۔ یہاں ہمارے ساتھیوں نے کچھ مسافروں اور ائیرپورٹ کے عملہ کو قرآن آن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔
مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ہم لوگ جہاز کے اندر داخل ہوئے۔ یہ ایک چھوٹا جہاز تھا۔ کریکو سے وارسا کا یہ سفر پولش ائرلائنز کی فلائٹ نمبر 3910 کے ذریعے ہوا۔ صرف 50 منٹ کی پرواز کے بعد ہم لوگ وارسا ائیرپورٹ پر اتر گئے۔ وارسا ائیرپورٹ پر ہم لوگ یہاں کے لاؤنج میں چلے گئے۔ وہاں بیٹھنے کے علاوہ کھانے پینے کا بھی انتظام تھا۔
لاؤنج کے مختلف حصوں میں بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے تھے، لیکن وہاں کسی قسم کا کوئی شور نہ تھا۔ ہر عورت اور مرد خاموشی کے ساتھ اپنا اپنا کام کر رہے تھے۔ مغربی دنیا میں جس طرح ورک کلچر ہے، اسی طرح یہاں خاموشی کلچر ہے۔ یہ لوگ یا تو چپ رہتے ہیں، یا وہ بہت آہستہ آہستہ بات کرتے ہیں، تاکہ آس پاس کے لوگ ڈسٹرب نہ ہوں۔ یہاں بھی ہمارے ساتھیوں نے لاؤنج میں بیٹھے ہوئے مختلف لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔
وارسا کے لاؤنج میں تقریباً 2 گھنٹے انتظار کرنے کے بعد ہم لوگ دوپہر کے وقت اگلے جہاز پر
‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues