معرفت مقصد انسانیت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۴
تہذیبِ معرفت کو عمل میں لانا مکمل طور پر علم و آگہی کا عمل ہے۔ وہ شعور کی سطح (intellectual level) پر انجام پاتا ہے۔ تمام سمندروں کو سیاہی بنانا اور تمام درختوں کو قلم بنانا، جس کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے، اس میں غالباً اسی کی طرف اشارہ ہے۔ انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ’’ مطالعہ اور کتابت‘‘ کے ذریعہ اس عمل کو شروع کرے۔ پیغمبروں نے انسان کو اس عمل کی طرف متوجہ کیا۔ اس کا ذکر غالباً قرآن کی اُس آیت میں موجود ہے جس میں تعلیم بالقلم کو رب کی معرفت کا ذریعہ بتایا گیا ہے (القلم: 4)۔ مگر انسانیت کا قافلہ پیغمبروں کی ہدایت پر چلنے میں ناکام رہا۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ تعالی نے ایک بڑی امت برپا کی۔ اس امت کا اولین کام یہ تھا کہ وہ تہذیبِ معرفت کے اس مطلوب عمل کو جاری کرے۔ امت کی طویل تاریخ بتاتی ہے کہ امت محمدی بہت جلد سیاسی اقتدار کے راستے پر چل پڑی۔ امت کے افراد نے مسلم ایمپائر قائم کیا، لیکن وہ ربانی تہذیب کا مطلوب ایمپائر قائم نہ کرسکے۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسلم صوفیا نے معرفت کے حصول کا یہ کام انجام دیا، لیکن یہ ایک غلط نہی ہے۔ صوفیا نے جو کام کیا، وہ تصوف کا کام تھا، اور تصوف اور معرفت دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ تصوف ایک مبنی بر قلب (heart-based) عمل ہے، جب کہ معرفت ایک مبنی بر ذہن (mind-based) عمل ہے۔ صوفیا کی یہ اجتہادی غلطی تھی کہ انھوں نے قلب کو معرفت کا خزانہ سمجھ لیا اور وہ قلب پر مفروضہ محنت کرتے رہے، جب کہ قلب صرف گردشِ خون کا مرکز ہے، نہ کہ معرفت کا مرکز۔
اس اجتہادی غلطی کا نتیجہ یہ ہوا کہ صوفیا کا گروہ خدا کی شعوری معرفت کی دریافت سے محروم رہا۔ انھوں نے بطورِ خود جس وجد یا دیدار الٰہی کو دریافت کیا، وہ صرف ایک واہمہ تھا، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی دریافت۔ بدقسمتی سے بعد کے زمانے کے اکثر مسلم علماء بھی اسی صوفیانہ نظریے سے متاثر ہو گئے۔ وہ بھی متصوفانہ اشغال کو معرفت کا ذریعہ سمجھتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صوفیا اور علماء
‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues