معرفت مقصد انسانیت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۵
دونوں حقیقی معرفت سے بے خبرہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ پوری مسلم تاریخ میں غالباً کوئی عالم یا صوفی معرفت کے موضوع پر کوئی قابلِ ذکر کتاب تیار نہ کر سکا۔ جن کتابوں کو لوگ معرفت کی کتاب سمجھتے ہیں، وہ حقیقۃً تصوف کی کتابیں ہیں، نہ کہ معرفت کی کتابیں۔
معرفت کے بنیادی اصول خدا کی کتاب میں دئے گئے تھے اور اس کے تائیدی شواہد (supporting evidences) فطرت (nature) میں رکھ دئے گئے تھے۔ اب یہ انسان کا کام تھا کہ وہ فطرت کے شواہد کو دریافت کرے اور اُس کو لوگوں کے لیے ایک معلوم واقعہ بنائے ۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ اہل ایمان (believers) اس کام کو انجام نہ دے سکے۔ پیغمبروں کے معاملے میں یہ ہوا کہ اُن کے ساتھ کوئی مضبوط ٹیم نہ بن سکی جو اس کام کو انجام دیتی۔ پیغمبرِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن پھیلا اور ایک پوری امت آپ کے مشن سے وابستہ ہوگئی، لیکن یہاں بھی ایسا ہوا کہ امت محمدی بہت جلد سیاسی اقتدار میں مشغول ہوگئی۔ پہلے انھوں نے اپنا سیاسی ایمپائر بنایا اور جب یہ ایمپائر ٹوٹا تو وہ جہاد کے نام پر اُس کو دوبارہ حاصل کرنے میں لگ گئے۔ اس طرح لمبی تاریخ گزر گئی اور اہل ایمان اس ضروری کام کو انجام نہ دے سکے۔
آیاتِ معرفت کو کھولنے کے کام کے لیے اہل ایمان فرسٹ آپشن (first option) کی حیثیت رکھتے تھے۔ لیکن جب انھوں نے یہ کام مطلوب طور پر انجام نہیں دیا تو اس کے بعد غیر اہل ایمان (non-believers) کو سیکنڈ آپشن (second option) کے طور پر منتخب کیا گیا۔ یہ سیکنڈ آپشن مغربی قوموں کا تھا۔ غالباً انھیں قوموں کو قرآن میں یاجوج اور ماجوج (الأنبیاء: 96) کہا گیا ہے۔ اس معاملے میں غیر اہل ایمان کو بطور سیکنڈ آپشن منتخب کرنے کا اشارہ غالباً صحیح البخاری کی ایک روایت میں ملتا ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: إنَّ اللـه ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، كتاب الجهاد والسير، باب إن الله يؤيد الدين بالرجل الفاجر) یعنی بے شک، اللہ اس دین کی تائید فاجر انسان سے کرے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues