Al-Risala · September 2010 · page 17

دوسرا مرحلہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۷

ہزاروں سال تک پیغمبر آتے رہے، مگر بہت کم افراد ایسے تھے جو پیغمبر سے ہدایت لیں یا پیغمبر کا ساتھ دیں۔ لوگ نہ دکھائی دینے والے خدا (unseen god) کی معرفت حاصل نہیں کر پاتے تھے، اس لیے وہ دکھائی دینے والے خدا (seen god) کو پوجتے رہے۔ انسان کی یہی کمزوری ہے جس نے قدیم زمانے میں فطرت پرستی (nature worship) کا کلچر پیدا کیا۔ یہ معرفت کا پہلا دور تھا جو حضرت آدم سے لے کر حضرت ابراہیم تک جاری رہا۔ اس قدیم دور کی طرف اشارہ قرآن کی اس آیت میں موجود ہے: ربّ إنّهنّ أضللن كثيراً (ابراهيم: 36)۔

دوسرا مرحلہ

معرفت کا دوسرا مرحلہ پیغمبر ابراہیم علیہ السلام (وفات: 1985 ق م) سے شروع ہوتا ہے۔ وہ قدیم عراق کے شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ اللہ کی ہدایت کے مطابق، ان کے ذریعے ایک نیا منصوبہ شروع کیا گیا۔ وہ منصوبہ تھا، ایسی نسل تیار کرنا جو ماحول کی کنڈیشننگ سے پاک ہو۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے عرب کے صحرا میں اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو بسایا۔ یہاں صحرائی ماحول میں تقریباً ڈھائی ہزار سال تک توالد و تناسل کا سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ وہ نسل تیار ہوئی جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ اسی نسل میں پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب 570 عیسوی میں پیدا ہوئے۔ اس واقعے کا اشارہ قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: كنتم خير أمة أخرجت للناس (آل عمران: 110)

ایک مستشرق پروفیسر ڈی ایس مارگولی تھ (وفات: 1940) نے اس اسماعیلی نسل کو ہیروز کی نسل (a nation of heroes) کہا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بنواسماعیل کے درمیان کام کر کے ان کو تیار کیا اور ان کے ذریعے ایک بڑی ٹیم بنائی۔ یہی وہ ٹیم ہے جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ اس ٹیم نے ساتویں صدی عیسوی میں اگلے دور معرفت کا آغاز کیا۔ تیسرا مرحلہ اصحابِ رسول نے غیر معمولی قربانیوں کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا انقلاب برپا کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues

Printed page