Al-Risala · September 2010 · page 18

چوتھا مرحلہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۸

اس انقلاب کو ایک لفظ میں، دورِ شرک کا خاتمہ اور دورِ توحید کا آغاز کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے نہ صرف عرب میں، بلکہ عرب کے باہر دنیا کے دو بڑے ایمپائر، ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر کا خاتمہ کیا جو انسانی فکر کی ترقی میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ انھوں نے فطرت (nature) کو معبودیت کے مقام سے ہٹایا اور اکتشافِ فطرت کا دروازہ کھولا، جس کے نتیجے میں آخر کار جدید سائنسی دور ظہور میں آیا۔

اصحابِ رسول کا دوسرا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے وحی الہیٰ (قرآن) کو ایک محفوظ کلام کی حیثیت دے دی جو کہ اس سے پہلے کبھی کسی آسمانی کتاب کے ساتھ نہیں ہوا تھا۔ امتِ محمدی کا یہ ایک اہم کارنامہ ہے کہ اس نے ایک ہزار سال تک قرآن کو مستند ترین انداز میں محفوظ رکھا اور اس کو انیسویں صدی عیسوی تک پہنچا دیا۔ انیسویں صدی میں پرنٹنگ پریس ایجاد ہو گیا اور یہ ممکن ہو گیا کہ قرآن کے نسخے کامل صحت کے ساتھ بڑی تعداد میں چھاپ کر ساری دنیا میں پھیلا دئیے جائیں۔ اب اشاعتِ قرآن کا یہ کام اتنے بڑے پیمانے پر ہو چکا ہے کہ اُس میں اب نہ ضیاع کا اندیشہ ہے اور نہ کسی قسم کی تبدیلی کا اندیشہ۔

چوتھا مرحلہ

تہذیبِ معرفت کا چوتھا مرحلہ دراصل تیسرے مرحلے میں پیش آنے والے انقلابی پر اس کی تکمیل (culmination) ہے۔ یہ تکمیل مغربی قوموں کے ذریعے انجام پائی، جن کو قرآن میں یاجوج اور ماجوج (الأنبياء: 96) کہا گیا ہے۔ سفرِ معرفت کے تیسرے مرحلے کے ہیرو اہل ایمان (believers) تھے۔ معرفت کے چوتھے مرحلے کو انجام دینے کا کام غیر اہل ایمان (non-believers) سے لیا گیا۔ اس واقعے کی طرف اشارہ ایک حدیثِ رسول میں موجود ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: إنّ الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، کتاب الجهاد والسیر، باب إنّ الله يؤيد الدين بالرجل الفاجر)

اس حدیثِ رسول میں ”فاجر“ سے مراد غیر اہل ایمان (non-believers) ہیں۔ غالباً

‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues

Printed page