چوتھا مرحلہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۹
یہی غیر اہل ایمان تھے جن کو قرآن اور حدیث میں یا جوج اور ما جوج کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ غیر اہل ایمان وہ مغربی قومیں ہیں جو یورپ کی نشأۃ ثانیہ (Renaissance) کے بعد ابھریں۔ مغرب کی نشأۃ ثانیہ کروسیڈس (Crusades) کی طویل جنگ میں مغربی قوموں کی ہار کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ کروسیڈس کی طویل جنگ چودھویں صدی عیسوی میں ختم ہوئی ۔ اور اسی چودھویں صدی میں مغرب کی نشأۃ ثانیہ کا آغاز ہوا۔
کروسیڈس کی طویل جنگ میں ایک طرف مسلم حکومتیں تھیں اور دوسری طرف تقریباً پورا مسیحی یورپ اس طویل جنگ میں مسیحی قوموں کو ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) ہوئی۔ یہ شکست اُن کے لیے ایک عظیم شاک (super shock) کے ہم معنی تھی۔ اس کے بعد مغربی قوموں میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ اُنھیں اپنے عمل کا میدان مسلح کروسیڈس (armed crusades) کے بجائے، اسپرپچول کروسیڈس (spiritual crusades) کی طرف موڑ دینا چاہیے۔ یہ اسپر پچول کروسیڈس دھیرے دھیرے فطرت (nature) کی تسخیر تک پہنچ گئی۔
اس کے نتیجے میں مسیحی قوموں کو سائنس اور صنعت کے میدان میں غیر معمولی طاقت حاصل ہوئی ۔ وہ دوبارہ نئی طاقت کے ساتھ نہ صرف مسلم، بلکہ پوری دنیا پر چھا گئے۔ اکتشاف معرفت کے پر اس کا آغاز اہل ایمان نے کیا تھا، اس آغاز میں غیر اہل ایمان نے تائیدی رول ادا کیا اور اس کو تکمیل کے مرحلے تک پہنچادیا۔
پچھلے چند سو سالوں میں مغربی محققین اور مغربی سائنس دانوں نے جو کام انجام دیا ہے، وہ سائنس برائے سائنس کے جذبے کے تحت انجام دیا گیا ہے۔ وہ اپنے آپ میں اور براہِ راست طور پر حق کی معرفت نہیں ہے۔ اس کام کی اہمیت یہ ہے کہ انھوں نے طالبین معرفت کے لیے بنیادی معلومات (data) فراہم کر دیا ہے۔ ان معلومات کو لے کر معرفت کی ایک پوری انسائیکلو پیڈیا تیار کی جاسکتی ہے، جس کے ذریعے دینی حقائق انسان کے اپنے علمی مسلمہ کی سطح پر مدلل ہوسکیں۔ موجودہ زمانے میں جو سائنسی دریافتیں ہوئی ہیں، وہ حقیقتِ تخلیق خداوندی میں چھپے ہوئے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues