Al-Risala · September 2010 · page 20

پانچواں دور

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۰

قوانین کی دریافتیں ہیں۔ ان دریافتوں کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اسلامی عقائد کا نظام جو پہلے وحی والہام پر مبنی سمجھا جاتا تھا، اب وہ انسان کے خود اپنے علمی مسلمہ کی بنیاد پر قائم ہوگیا ہے۔ چوتھے دور میں معرفت کا جوسفر طے ہوا، اس کے کئی پہلوتھے۔ اکتشاف فطرت کے ذریعے آفاق وانفس کی نشانیوں کی دریافت، کمیونیکیشن کے ذرائع کا ظہور میں آنا، لوگوں میں تجسس کی اسپرٹ (spirit of enquiry) کا پیدا ہونا، عالمی انٹریشن کا وہ عمل جس کو گلوبلائزیشن کہا جاتا ہے، مذہبی جبر (religious persecution) کا ختم ہونا اور ساری دنیا میں مذہبی آزادی (religious freedom) کا دور شروع ہونا، تاریخی تحقیقات کے ذریعے یہ ثابت ہوجانا کہ دوسری تمام الہامی کتابیں غیر محفوظ اور غیر مستند ہوچکی ہیں، محفوظ اور مستند کتاب کی حیثیت صرف قرآن کو حاصل ہے، ساری دنیا میں مذہبی مفاہمت (religious understanding) کی فضا کا قائم ہونا، قرآن اور اسلام کا بڑے پیمانے پر نیوز (news) میں آنا، پولیٹکل ایمپائر نہ ہوتے ہوئے، زیادہ بڑے پیمانے پر فکری ایمپائر (ideological empire) کا قیام ممکن ہوجانا، وغیرہ۔

پانچواں دور

معرفت کا پانچواں دور وہ ہے جب کہ پیدا شدہ انقلابی مواقع کو استعمال کرکے ایک طرف اعلیٰ درجہ معرفت حاصل کیا جائے اور دوسری طرف اللہ کا پیغام ساری دنیا میں پہنچا دیا جائے۔ یہ کام قیامت سے پہلے آخری دور انسانیت میں انجام پائے گا۔ اس دور کی پیشین گوئی ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں آئی ہے: لا يبقى علی ظہر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الاسلام (مسند احمد، جلد 4، صفحہ (6) یعنی زمین کے اوپر کوئی گھر یا خیمہ نہیں بچے گا، مگر اللہ اُس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کردے گا۔

آخری دور کا یہ واقعہ غالباً دو طریقے سے انجام پائے گا۔ ایک، یہ کہ کلمۂ اسلام یا کلام الہی (word of God) کے اندر اقتصادی مفاد (commercial interest) پیدا کیا جائے گا۔ لوگ عمومی طور پر خدا کی بات کو پھیلانے لگیں گے، حتی کہ اشاعتِ اسلام کے اس عمل میں غیر مسلم بھی شریک

‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues

Printed page